وزیرستان: جھڑپوں میں دس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں فوج اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں دو فوجیوں سمیت کم از کم دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بتایا ہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے نواحی علاقہ کانی گرم میں مبینہ طور پر القاعدہ کے حامی شدت پسندوں اور فوج کے درمیان مسلح جھڑپوں میں چھ سے آٹھ شدت پسند اور دو فوجی ہلاک ہوئے ہیں جب کہ سکیورٹی فورسز کے کچھ اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب سے سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں میں مسلح جھڑپیں جاری ہیں اور اتوار کی شام تک ملنے والی اطلاعات کے مطابق اب بھی وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ معاملہ کنٹرول سے باہر ہونے کی بات نہیں ہے۔ جب ان سے ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی شہریت کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ تصدیق نہیں کر سکتے کہ آیا ہلاک شدگان غیر ملکی ہیں یا مقامی لوگ۔ زخمی فوجیوں کی تعداد سمیت دیگر تفصیلات کے متعلق سوال پر میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا کہ وہ اس ضمن میں کوئی تفصیلات نہیں بتانا چاہتے۔ پشاور سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نامہ نگارہارون رشید نے بتایا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں لدھا سب ڈویژن کے کاروان منزہ علاقے سے اتوار کی صبح قبائلیوں اور فوج کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اور خدشہ ہے کہ فریقین کو جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ کاروان منزہ کے علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق قبائلیوں نے صبح پانچ بجے پیش قدمی کی اور فوجی ٹھکانوں کو ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنانا شروع کیا۔ کئی راکٹ اور گولے شہری آبادی میں گرنے کی بھی خبر ہے جن سے مکانات کو نقصان پہنچا ہے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ عینی شاھدین کے مطابق سکیورٹی فورسز نے پہاڑوں پر شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے اور لدھا اور جنوبی وزیرستان کے گردو نواح میں اپنا آپریشن جاری رکھا۔ گن شپ ہیلی کاپٹر اور آرٹیلری نے بھی آپریشن میں حصہ لیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||