’امریکہ پرانی غلطی نہ دہرائے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکمران مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل سید مشاہد حسین نے کہا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی امریکہ افغانستان سے قبل از وقت نکل گیا اور عراق پر توجہ مرکوز کی تو یہ ان کی بہت بڑی غلطی ہوگی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کے روز’قبائلی علاقے- چیلینجز اور ذمہ داریوں‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار کا انعقاد ’ہینز سیڈل نامی جرمن فاؤنڈیشن‘ اور ’اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی جانب سے مشترکہ طور پر کیا گیا تھا۔ سیمینار میں سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ سفارتکاروں اور ریٹائرڈ فوجیوں نے بھی شرکت کی۔ مشاہد حسین نے کہا کہ امریکہ، چین اور سعودی عرب نے سوویت یونین کے خلاف پانچ ارب ڈالر فراہم کیے اور پاکستان سمیت بیس ہزار جہادیوں نے مل کر ’گرینڈ جوائنٹ جہاد‘ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں بیسویں صدی کی آخری اور اکیسویں صدی کی پہلی بڑی لڑائی بھی افغانستان میں لڑی گئی۔ ان کے مطابق پہلی لڑائی سویت یونین کے خلاف تھی جبکہ دوسری لڑائی ’گرینڈ جوائنٹ جہاد‘ کے منفی اثرات کے خاتمے کے لیے تھی۔ مشاہد حسین نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے بہتر اقتصادی مستقبل کا دارومدار قبائلی علاقوں میں امن کے قیام پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی حکومت کا مسئلہ ان کے پاس مسلح افواج کی کمی ہے جبکہ ’ایساف‘ اور ’نیٹو‘ کی فورسز کابل تک محدود ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ کابل اور اسلام آباد کی حکومتوں کو ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کے بجائے وسیع تعاون کرنا ہوگا۔ سیمینار سے ڈاکٹر شیریں مزاری، ڈاکٹر اعجاز حسین، ڈاکٹر مقصودالحسن نوری، ڈاکٹر ہمایوں خان اور خالد عزیز سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ شیریں مزاری نے خواتین پر قبائلی نظام میں پابندیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ بیشتر مقررین نے قبائلی علاقوں میں سیاسی اصلاحات پرعمل درآمد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قبائلیوں کو ملکی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے۔ بعض مقررین نے قبائلی علاقوں میں طاقت کے استعمال سے گریز کرنے اور مسائل قبائلی روایات کے مطابق حل کرنے پر زور دیا۔ سیمینار سے پشتون دانشور اور صحافی امتیاز گل نے خطاب کرتے ہوئے وزیرستان کے اپنے دورے کے مشاہدات بتائے اور کہا کہ قبائلی علاقوں میں پاکستان کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے جو کہ ملک کے دیگر حصوں تک بھی پھیل سکتی ہے۔ قبائلی علاقہ جات میں امریکی افواج کے آپریشن میں ملوث ہونے، امریکی مفادات کی خاطر کارروائی کرنے اور جہادیوں کو دہشت گرد کہنے جیسے تاثرات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے صدر جنرل پرویز مشرف کا موقف دہرایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنوبی اور شمالی وزیرستان کے دو قبائل کے علاوہ باقی تمام حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ فوجی ترجمان نے قبائلی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی اصلاحات کا ذکر بھی کیا اور بتایا کہ ساڑھے بارہ سو سے زائد اساتذہ کو تربیت دی جاری ہے۔ تین سو پرائمری کمیونٹی سکول، اکاون مڈل، سینتیس ہائی سکول اور بائیس کالجوں کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ جبکہ پانچ فنی تعلیم کے ادارے اور باسٹھ فنی تعلیمی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ تقریباً تیس لاکھ کی آبادی والے قبائلی علاقوں میں مبینہ طور پر چھپے ہوئے القاعدہ اور طالبان حامی شدت پسندوں کے خلاف کئی ماہ سے حکومت نے کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ اب تک ایک سو کے لگ بھگ شدت پسند اور سیکورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||