وانا میں چھ شہری ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے ساتھ سرحد پر واقع پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ہسپتال ذرائع اور مقامی قبائلیوں کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح وانا میں فوجیوں اور مشتبہ شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں چھ عام شہری ہلاک جبکہ ایک درجن سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ وانا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وانا بائی پاس روڈ پر تین ٹرکوں اور کئی گاڑیوں پر مشتمل ایک فوجی قافلہ گزر رہا تھا کہ اس کی ایک گاڑی بارودی سرنگ سے جا ٹکرائی۔ اس سے تین فوجی معمولی سے زخمی ہوگئے۔ بعد میں فوجیوں نے مشتبہ شدت پسندوں پر گولی چلا دی جس سے عینی شاہدوں اور سکاؤٹس ہسپتال کے ذرائع کے مطابق چھ شہری ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں کی لاشیں سکاؤٹس ہسپتال پہنچا دی گئی ہیں۔ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کا شدت پسندوں کے ساتھ ایک گھنٹے تک گولیوں کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ کے تبادلے کے بعد علاقے کو سیکیورٹی دستوں نے گھیرے میں لے لیا تھا۔ مقامی قبائلی اور عینی شاہد کہہ رہے ہیں کہ فائرنگ بلا وجہ تھی جبکہ فوج کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مشتبہ شدت پسندوں پر گولی چلائی تھی۔ وانا کے ایک مشہور ڈاکٹر ثمر گل کا نام بھی زخمیوں کی فہرست میں شامل ہے۔ عام شہریوں کی ہلاکت پر مقامی لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق مرنے والوں کی تعداد آٹھ ہے البتہ اس کی سرکاری ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔ پاکستانی فوج گزشتہ دو برسوں سے اس علاقے میں القاعدہ اور طالبان کے ارکان کی تلاش کر رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||