دہشت گردی: تعاون کامعاوضہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے پاکستان کی طرف واجب الادا ساڑھے انچاس کروڑ ڈالر کا قرضہ معاف کردیا ہے۔ قرضہ معاف کرنے کے بارے میں جمعہ کے روز اسلام آباد میں ایک معاہدے پر امریکی سفیر نینسی پاول اور پاکستان کے ’اکنامک افیئرز ڈویژن کے سیکریٹری ڈاکٹر وقار مسعود نے دستخط کیے۔ امریکہ کے یوم آزادی کے موقعہ پر اس معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب ہونی تھی جو نامعلوم اسباب کے باعث ملتوی کردی گئی تھی۔ اس موقعہ پر امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ان کے ملک کی پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ روابط اور تعلقات کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔ امریکی سفیر نے کہا کہ امریکہ، پاکستانی حکومت کی اقتصادی، انٹیلی جنس، توانائی اور دیگر شعبوں میں تعاون کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جو عوام کو ہر شعبے میں ب انہوں نے کہا کہ امریکہ نے نومبر 2001 میں ساٹھ کروڑ ڈالر کی نقد امداد، اگست 2002 میں تین ارب ڈالر کا قرضہ جو پاکستان نے اڑتیس برسوں میں لیا، وہ ری شیڈول کردیا تھا۔ جبکہ ان کے بقول اپریل 2003 میں ایک ارب ڈالر کا قرضہ ختم بھی کردیا تھا۔ نینسی پاول کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے آئندہ پانچ برسوں کے لیے صدر بش نے کانگریس سے تین ارب ڈالر کی امداد کی درخواست بھی کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ پانچ برس تک ہر سال دس کروڑ ڈالر کی امداد تعلیم، صحت اور حکمرانی کے شعبوں کے لیے بھی فراہم کر رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||