اب وزیری جنگی گیت بھی مقبول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں پشتوگیتوں کی ایک نئی کیسٹ بازار میں آئی ہے جو وہاں جاری لڑائی، لوگوں کی تکالیف کے ساتھ ساتھ گزشتہ دنوں ہلاک ہونے والے مقامی جنگجو نوجوان نیک محمد اور اس کے ساتھیوں کو بھی ایک ہیرو کے طور پر پیش کرتی ہے۔ سلیم مروت نامی ایک مقامی گلوکار کا یہ نیا البم ماضی کے برعکس پیار محبت کی عہدو پیما والے گیتوں سے نہیں بھرا ہوا بلکہ وزیرستان کے موجودہ حالات، وہاں جاری جنگ اور لوگوں کی مشکلات کے ذکر سے بھرا ہے۔ ’میرے مہربانو، خاموشی سے بیٹھ جاؤ۔ میں آج تمہیں وزیرستان کا حال بیان کرتا ہوں۔ صبح کے چار بجے ہیں اور فائرنگ شروع ہے‘ جیسی شاعری فطری طور پر وزیرستان کے موجودہ حالات کی عکاسی کرتی ہے۔ اسے پشتو موسیقی کی مشہور صنف ٹپے کے انداز میں گایا گیا ہے۔ ’بمبار وزیرستان‘ کے عنوان سے سامنے آنے والا ایک گھنٹہ ریکارڈنگ پر مشتمل اس پشتو البم میں بسم اللہ خان اور اکرام اللہ خان وزیر کی شاعری گائی گئی ہے۔ کسی علاقے میں طویل عرصے تک جاری جنگ اس علاقے میں آباد لوگوں کے ہر شعبۂِ زندگی خصوصاً فنونِ لطیفہ پر اثر ڈالتی ہے۔ اس کی ایک چھوٹی سے مثال افغانستان ہے جہاں جنگ کے دوران وہاں کے قالینوں پر پھول پتوں کی جگہ بندوق اور ٹینکوں نے لے لی تھی۔ تقریباً اسی قسم کے اثرات وزیرستان میں نظر آنے شروع ہوئے ہیں جس کی ایک مثال وہاں کی یہ موسیقی ہے۔ اس سے قبل اس قسم کی دو نعتیہ کیسٹیں بھی بازار میں آچکی ہیں۔
پشاور میں یہ کیسٹ ابھی دستیاب نہیں حالانکہ ایک دوکاندار کے بقول لوگ اس کے بارے میں پوچھتے ضرور ہیں۔ چند افراد کے بقول شاید اس کی وجہ حکومتی خوف ہو۔ البتہ اس قسم کی موسیقی کے وزیرستان میں معروف ہونے کے بارے میں کوئی شک نہیں کیونکہ یہ وہاں کے لوگوں کو درپیش مسائل کی، ان کی خواہشات اور مایوسیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ لیکن یہ موسیقی ان میں اپنی مٹی سے پیار بھی بڑھاتی ہے اور انہیں اپنی زمین کے دفاع پر مجبور کرتی ہے۔ ’وزیرستان کو میں پھولوں سے سجاوں گا۔ اے میرے طالب دوست میں اپنا سر قربان کروں گا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||