BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 September, 2004, 17:54 GMT 22:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا آپریشن پر اسمبلی میں احتجاج

News image
پاکستان کی قومی اسمبلی میں جمعہ کی شام ہونے والے اجلاس میں حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین کے درمیاں سخت گرما گرمی ہوئی اور شیم شیم کے نعرے بھی لگائے گئے جس سے ایوان میں شدید شور شرابہ ہوگیا۔ ایوان میں سخت شور کی وجہ سے ڈپٹی سپیکر کئی مواقع پر بے بس دکھائی دے رہے تھے۔

ایوان میں حزب اختلاف نے قبائلی علاقہ جنوبی وزیرستان میں فوجی کاروائی کے خلاف سخت احتجاج کے بعد علامتی واک آئوٹ بھی کیا۔واک آؤٹ میں پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز نے حصہ نہیں لیا البتہ متحدہ مجلس عمل کا مسلم لیگ نواز نے ساتھ دیا۔

ڈپٹی سپیکر سردار یعقوب کی صدار ت میں اجلاس شروع ہوا تو حزب اختلاف کے اراکین نے صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے اکتیس دسمبر تک وردی نہ اتارنے کے معاملے اور قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن کے معاملات پر بات کرنا چاہی۔ ڈپٹی سپیکر نے انہیں اجازت نہیں دی اور کہا کہ آئندہ پیرکے روز ان معاملات پر تفصیلی بات ہوگی جس پر حزب اختلاف کے اراکین سخت احتجاج کرتے رہے۔

وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ نے جنوبی وزیرستان میں کاروائی کے متعلق حزب اختلاف کی تنقید مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہاں چھپے ہوئے غیر ملکیوں کے خلاف کاروائی جاری رہے گی کیونکہ پاکستان حکومت کسی کو بھی اپنی سرزمین کسی کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے نہیں دے گی۔

حزب اختلاف کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے جنوبی وزیرستان میں کاروائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بیگناہ افراد مارے جارہ ہیں اور احتجاجی طور پر ایوان سے واک آئوٹ کیا۔

اجلاس میں ایک موقع پر چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے رہنما حافظ حسین احمد نے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں واقع اپنے مدرسے پر چھاپے کا معاملہ اٹھایا اور سابق وزیر داخلہ فیصل صالح حیات کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے جس پر دونوں جانب کے اراکین میں سخت گرما گرمی ہوئی اور ڈپٹی سپیکر نے حافظ حسین کو بولنے کی اجازت نہیں دی۔

ایسے صورتحال کے بعد متحدہ مجلس عمل کے بیشتر اراکین کھڑے ہوکر احتجاج کرتے رہے اور بعض اراکین نے فیصل صالح حیات کے خلاف سخت جملے کہے جو سپیکر نے کاروائی سے حذف کرادیے۔

مخدوم فیصل صالح حیات نے جواب دیتے ہوئے حافظ حسین پر جوابی کڑی نکتہ چینی کی اور کہا کہ بہتر ہوگا کہ ذاتی معاملات کو نہ اچھالا جائے اور ایوان کا ماحول خراب نہ کیا جائے۔ جس پر بعض حزب اختلاف کے اراکین نے شیم شیم کے نعرے لگائے۔

حافظ حسین احمد نے کہا کہ یکم ستمبر کو ان کے مدرسے پر چھاپہ مارا گیا اور ان کے ضعیف والدین کو حراساں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی روز شیخ رشید احمد نے کوئٹہ سے القائدہ سے تعلقات کے شبہہ میں شریف المصری کی گرفتاری کا دعویٰ کیا۔ حافظ حسین احمد نے کہا کہ وہ دعوے سے کہتے ہیں کہ مصری اس سے ایک ہفتہ قبل گرفتار ہوا تھا اور اگر حکومت یکم ستمبر کو ان کی گرفتاری ثابت کرے تو وہ اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کے لیے تیار ہیں۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اب پیر کی شام پانچ بجے تک ملتوی کردیا گیا ہے۔دریں اثناء صدر جنرل پرویز مشرف نے ایوان بالا سینیٹ کا اجلاس پندرہ ستمبر کو طلب کرلیا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد