وانا میں راکٹ حملے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ افغان سرحد کے قریب قبائلی علاقے وزیرستان میں جمعہ کی رات دو فوجی ٹھکانوں پر تازہ راکٹ حملے ہوئے ہیں البتہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ پہلا حملہ شمالی وزیرستان کے رزمک کے علاقے میں ہوا جس میں نامعلوم افراد نے فوجی کیمپ پر رات ایک بجے کے قریب پانچ راکٹ قریبی پہاڑوں سے داغے۔ اطلاعات کے مطابق چار ہدف سے دور کھلے علاقے میں گرے جن سے کوئی نقصان نہیں ہوا البتہ ایک راکٹ ایک دکان میں گرا جس سے دکان تباہ ہوگئی۔ تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دوسری جانب جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں بھی کل رات دو بجے کے قریب نامعلوم حملہ آوروں نے دو راکٹ سکاوٹس کیمپ پر داغے جن میں سے ایک قریبی پہاڑ پر گرا جبکہ دوسرا کیمپ کے اندر گرا جس سے ابھی تک کسی جانی نقصان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ حکام ماضی میں بھی اس طرح کے حملوں کی ذمہ داری القاعدہ اور طالبان سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں پر ڈالتے رہے ہیں۔ جمعہ کو نیم فوجی دستوں نے وانا ہوائی اڈے کے قریب ایک خشک ندی سے تیس راکٹ ڈیٹونیٹر برآمد کیے تھے۔ ادھر احمدزئی وزیر قبائل کی ذیلی شاخوں کے ساتھ معاہدوں کے بعد اطلاعات ہیں کہ گرفتار اٹھارہ قبائلیوں میں سے پانچ کو پشاور جیل سے ٹانک منتقل کر دیا گیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ انہیں اس معاہدے کے تحت جلد رہا کر دیا جائے گا۔ کل پاکستانی فوج نے شکئی کے قریب منتوئی کے علاقے میں آباد محسود قبائل کے درجنوں مکانات کی تلاشی لی لیکن ان کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||