دو قبائل کا حکومت سے معاہدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سرکار کے زیر عتاب احمدزئی وزیر قبائل کی دو ذیلی شاخوں گنگی خیل اور اتمان خیل نے حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا ہے جس کے تحت انہوں نے اپنے علاقے کو غیرملکی عناصر سے پاک رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ پشاور میں پیر کو جاری ہونے والے ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق گنگی خیل قبائل اور گونر سرحد کے درمیان اتوار کی شام کو ایک ملاقات میں یہ معاہدہ طے پایا۔ جبکہ اتمان خیل نے بعد میں گورنر سے ملاقات کرکے غیر ملکیوں کو پناہ نہ دینے اور حکومت سے تعاون کرنے کا معاہدہ کیا۔ معاہدے کے تحت یہ قبائل حکومت کو القاعدہ اور طالبان کی مبینہ مدد کے الزام میں مطلوب افراد حوالے کرے گا اور ایک کروڑ روپے بطور ضمانت جمع کرائے گا۔ اس رقم کا ایک چوتھائی پہلے ہی جمع کروا دیئے گئے ہیں۔ جواب میں حکومت نے انہیں یقین دلایا
گورنر نے اس موقعہ پر کہا کہ انہیں معلوم ہے سب قبائلی محبِ وطن ہیں ماسوائے چند کے جو شاید پیسے یا کسی اور ذاتی مفاد کی خاطر غیرملکی عناصر کی مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیگر قبائل کے ساتھ بھی انہیں خطوط پر بات چیت جاری ہے۔ مبصرین کے خیال میں اس معاہدے سے احمدزئی وزیر قبائل کے درمیان اختلافات کا پتہ ملتا ہے۔ کسی متفقہ فیصلے پر نہ پہنچ سکنے کے بعد قبیلے کی ذیلی شاخوں نے انفرادی طور پر حکومت کے ساتھ معاہدے کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ اس سے قبل شکئی کے چار قبائل نے بھی اسی قسم کا ایک معاہدے حکومت کے ساتھ کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||