وانا: فضائی حملے میں 50 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان فوج کے ترجمان نے دعوی کیا ہے کہ قبائلی علاقے، جنوبی وزیرستان میں پاک فضائیہ کے طیاروں اور آرمی کے ہیلی کاپٹروں نےکارروائی کر کے شدت پسندوں کے ایک کیمپ کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ فوجی ترجمان کے مطابق اس کارروائی کے دوران پچاس شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ جنوبی وزیرستان کے محسود قبائل والے علاقے لدھا سب ڈویژن کے دل خلا نامی گاؤں میں یہ تازہ کارروائی آج صبح پانچ بجے کے قریب کی گئی۔ محسود علاقے میں اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی ہے۔ اب تک عام تاثر یہی تھا کہ محسود علاقے غیرملکیوں سے پاک ہیں۔ گزشتہ روز وانا میں پاک فوج اور شدت پسندوں کے درمیان لڑائی میں چھ شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ القاعدہ تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد کو مقامی قبائلیوں نے ان علاقوں میں پناہ دے رکھی ہے۔ اپنے آپ کو ’مجاہدین’ کا ترجمان کہلوانے عبداللہ نامی ایک شخص نے بی بی سی کو ٹیلفون پر بتایا کہ وہ اس حملے کا بدلہ لیں گے۔ ’یہ بمباری بلاجواز تھی جس سے بچے، عورتیں اور بوڑھے ہلاک ہوئے ہیں۔’ البتہ اس ترجمان نے اپنے کسی نقصان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ اس کا کہنا تھا کہ پاکستان فوج کی امریکی اشاروں پر ان کارروائیوں کا نتیجہ کافی خطرناک نکلے گا۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر غیرملکیوں کی موجودگی کی تردید کی اور کہا کہ غیرملکی تو سب اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں بیٹھے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||