BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 September, 2004, 10:52 GMT 15:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنوبی وزیرستان میں بلیک آؤٹ

قبائلی علاقے میں وسیع پیمانے پر فوج کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے
قبائلی علاقے میں وسیع پیمانے پر فوج کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے
جنوبی وزیرستان میں اس وقت اصل میں کس نوعیت کی فوجی کارروائی جاری ہے یا تو خدا بہتر جانتا ہے یا پھر فوج۔ راستے بند ہیں، کوئی صحافی آزادانہ طور پر علاقے میں نقل و حرکت نہیں کرسکتا۔ پاکستانی اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں شائع اور نشر ہونیوالی زیادہ تر خبریں فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی بریفنگ اور پریس ریلیزیز کے ذریعے مل رہی ہیں اور چھپ رہی ہیں۔

زیادہ تر مقامی اخبارات، سرکاری چینل اور نجی ٹیلی ویژن چینلز جنوبی وزیرستان میں ہلاک ہونے والوں کو دہشت گرد بتارہے ہیں، غیرملکی دہشت گرد یا پھر مقامی دہشت گرد۔

اگر جنوبی وزیرستان میں ناکہ بندی سے خوراک اور ادویات کی کوئی قلت ہے بھی تو اس کا علیحدہ سے کوئی تذکرہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی کو اس بارے میں بتانے یا جاننے کی جلدی ہے۔ قطع نظر اس کے کہ زخمی اپنے علاج معالجے کے لئے کہاں جارہے ہیں اور کس طرح کا علاج کروارہے ہیں کسی کو یہ تک صحیح صحیح نہیں معلوم کہ تازہ مہم کے دوران کتنے مرد، عورتیں اور بچے زخمی ہوئے ہیں۔

بازاروں میں بمباری، گولہ باری اور بلڈوزروں سے جو دکانیں مسمار ہوئی ہیں وہ کون کون سے غیرملکی یا ملکی دہشت گردوں کی ملکیت ہیں، لاشیں ورثاء کو سپرد کی جارہی ہیں لیکن جو لوگ بےگناہ مارے گئے ہیں ان کا انصاف کیسے ہوگا، ان کے ورثاء کو کتنا معاوضہ ملےگا، یا نہیں ملے گا، کچھ نہیں معلوم۔

جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا سب ڈویژن میں ایک دہشت گرد ٹھکانے پہ پاکستانی فضائیہ کی بمباری کے بعد ملبے سے جو لاشیں نکلی ہیں ان میں ساتویں کلاس کے چودہ سالہ طالب علم منہاج الدین، پانچویں کلاس کے بارہ سالہ طالب علم شہسوار خان سمیت اسکول میں پڑھنے والے چار نوعمر دہشت گرد بھی شامل ہیں۔

کچھ لاشیں اتنی مسخ شدہ ہیں کہ ان کے ورثاء بھی نہیں بتا پاتے کہ مقامی دہشت گرد تھے یا غیرملکی۔ یہ سب دہشت گرد نہایت احتیاط سے چنے ہوئے اہداف اور بہترین انٹیلیجنس کی بنیاد پہ جدید انداز سے کی گئی بمباری کے نتیجے میں مارے گئے ہیں۔ اخباری مالکان ہوں، نجی ٹی وی چینلز کے کارپرتاز ہوں یا صحافیوں کی کوئی تنظیم کسی بھی جانب سے یہ مطالبہ تاحال سامنے نہیں آیا کہ جنوبی وزیرستان میں آزادانہ رپورٹِنگ کی اجازت اور سہولتیں دی جائیں۔

پارلیمنٹ میں حزب اختلاف نے یہ مطالبہ تو کیا ہے کہ وانا کے واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے لیکن یہ مطالبہ کسی نے نہیں کیا کہ فورا حقائق معلوم کرنے کے لئے وانا جانے کی اجازت دی جائے ورنہ لانگ مارچ کیا جائے گا۔

ہوسکتا ہے کہ آج جنوبی وزیرستان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ اگلے دس برس میں منظر عام پر آسکے۔ آخر بنگلہ دیش میں ہونے والے واقعات کو بھی پاکستانی ذرائع ابلاغ میں پہنچنے تک پچیس برس لگے اور بلوچستان میں انیس سو تہتر-چوہتر کے فوجی آپریشن کی تفصیلات تو اب تک نہیں پہنچ پائیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد