فوجی کیمپ پر راکٹوں سے حملہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں نیم فوجی ملیشیا کے ایک کیمپ پر جمعہ کی رات نامعلوم افراد نے راکٹوں سے تازہ حملہ کیا ہے البتہ جانی نقصانات کے بارے کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ دوسری جانب شمالی وزیرستان کے ساتھ سرحد پر واقعے مکین بازار اور اردگرد کے علاقوں سے مقامی آبادی نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ اس کی وجہ وہاں مزاحمت کارروں اور مقامی آبادی میں فوج کو تعینات کرنے کی اجازت کے مسئلہ پر اختلافات بتائے جاتے ہیں۔ علاقے کے عمائدین اس بات پر راضی نظر آتے ہیں کہ فوج کو آنے دیا جائے جبکہ مشتبہ شدت پسندوں کے ایک گروہ نے اس کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ مقامی رہا ئشیوں نے بتایا کہ فوج نے تعیناتی کی اجازت نہ ملنے پر بمباری کی دھمکی دی ہے جس کے بعد لوگ خوف کے مارے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ نامعلوم افراد نے کل رات دو بجے کے قریب سروکئی سکاوٹس قلعہ پر درجن سے زائد رکٹ داغے۔ ان میں کئی آس پاس کے علاقے میں جبکہ عینی شاہدین کے مطابق چند قلعے کے اندر بھی گرے ہیں لیکن حکام ابھی جانی نقصانات کے بارے میں کچھ نہیں بتا رہے ہیں۔ نیم فوجی دستوں نے بھی جوابی فائرنگ کی جس کا سلسلہ الصبح تک جاری رہا۔ لدھا سب ڈویژن میں گاؤں ملک دینی میں شدت پسندوں اور سکیورٹی دستوں کے درمیان جھڑپ میں ایک مکان پر گولہ گرنے سے دو بچوں کے ہلاک ہونے کی بھی خبر ہے۔ ایک بارہ سالہ منہاج الدین اور دوسرا تیرا سالہ شہاب بتائے جاتے سپین کئی رغزئی میں نامعلوم افراد نے خاصہ دار فورس کی ایک چوکی کو نذر آتش کر دیا اور خاصہ داروں کو وہاں دوبارہ نہ آنے کی دھمکی دی ہے۔ جنوبی وزیرستان میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور مقامی قبائلی غیر یقینی صورتحال سے دوچار نظر آتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||