خانہ جنگی کا خطرہ ہے: فضل الرحمان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی میں قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن پر بحث کی اجازت نہ ملنے کے خلاف حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے سخت احتجاج کرتے ہوئے نعرے لگائے اور واک آؤٹ کیا۔ قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیرستان میں فوجی آپریشن کی وجہ سے حالات خانہ جنگی کی طرف جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان تو ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہے اور اب ہمارا قبائلی علاقہ بھی رفتہ رفتہ ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم 1970 میں ’بنگال‘ (مشرقی پاکستان) کی صورتِ حال کی سمت جا رہے ہیں۔ ’بنگال‘ میں بھی یہی کہا گیا تھا کہ ہماری جنگ انڈیا کی فوج کے خلاف ہے، ہم ان کو باہر دھکیل دیں گے اور بالآخر پوری قوم باہر نکل آئی تھی اور عوام نے کہا کہ ہمیں ذلیل کیا گیا ہے۔‘ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’ہم (وزیرستان سے متعلق) حکومت کے موقف کو سراسر مسترد کرتے ہیں اور حکومتی اقدام غلط، جابرانہ اور ظالمانہ ہے۔‘ جنوبی وزیرستان میں جاری کارروائیوں میں کسی کو زندہ پکڑنے کی کوششیں کیے جانے یا نہ کیے جانے کے بارے میں حزب اختلاف کے رہنما نے کہا کہ اس میں حکومت کا کوئی دخل نہیں ہے بلکہ اس بارے میں فیصلے فوجی ادارے، جی ایچ کیو یا آئی ایس آئی ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں وزیراعظم کو اعتماد میں لیا گیا نہ گورنر کو اور ایسی کارروائیوں سے خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے۔ پیر کی شام کو ہونے والے اجلاس میں جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے خلاف حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے بحث کرنے کے لیے علیحدہ علیحدہ چار تحاریک التواء پیش کیں۔ حکومت کی جانب سے ان تحاریک کی مخالفت کی گئی اور سپیکر نے انہیں خلاف ضابطہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ سپیکر کی رولنگ کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز، متحدہ مجلس عمل اور مسلم لیگ نواز اور دیگر جماعتوں کے اراکین اسمبلی اپنی نشستوں پر شیم شیم (یعنی شرمندہ ہو) کے نعرے لگاتے ہوئے کھڑے ہوکر احتجاج کرتے رہے۔ اراکین نے ’ظالمو جواب دو، خون کا حساب دو، وانا آپریشن بند کرو، لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی‘ جیسے نعرے لگائے اور واک آؤٹ کر کے ایوان سے باہر چلے گئے۔ قبل ازیں جب وقفۂ سوالات ختم ہوا تو حزب اختلاف کے اراکین لیاقت بلوچ اور اعتزاز احسن نے نکتۂ اعتراض پر کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے سترہویں ترمیم کے مطابق وردی اتارنے کو لازم قرار نہ دینے کے بیان کے متعلق تحاریک استحقاق اور جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے خلاف تحاریک التویٰ پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ اجلاس میں موجود تمام جماعتوں کے نمائندوں بشمول جنوبی وزیرستان کے اراکین اسمبلی نے کہا کہ یہ انتہائی اہم مسئلہ ہے اور حکومت نے فضائی حملے کر کے درجنوں افراد کو ہلاک کیا ہے اور لڑائی ابھی جاری ہے لہٰذا اس پر بحث کرائی جائے۔ حزب احتلاف کے اراکین نے الزام لگایا کہ امریکہ کو خوش کرنے کے لیے پاکستانی فوج اپنے ہی شہریوں کو ہلاک کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اس سے فوج اور عوام میں کشیدگی بڑھے گی اور ملک کمزور ہوگا۔ انہوں نے فوری آپریشن بند کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا۔ لیاقت بلوچ نے تجویز پیش کی کہ ایوان کی خصوصی کمیٹی بنائی جائے جو حقائق معلوم کرکے ایوان میں رپورٹ پیش کرے۔ حکومت کی جانب سے وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن نیازی اور وزیر قانون وصی ظفر نے تحاریک التویٰ کی مخالفت کی اور کہا کہ قواعد کے مطابق جس معاملے پر چند ہفتے قبل بحث ہوچکی ہو اس پر دوبارہ بحث نہیں ہوسکتی۔ اس دوران وزیر داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں شدت پسند فوج پر حملے کر رہے ہیں اس لیے فوج جوابی کارروائی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نو ستمبر کو ایک عسکری تربیتی کیمپ پر بمباری کی گئی تھی جس میں لوگ بم چلانے کی تربیت لے رہے تھے۔ وزیر داخلہ نے امریکی مفاد میں آپریشن کرنے اور بےگناہ افراد کے مارے جانے کے حزب اختلاف کے دعوے مسترد کردیئے۔ حزب اختلاف کے واک آؤٹ کے بعد حکومت نے اجلاس کی کارروائی جاری رکھی تو حزب اختلاف کے رکن راجا پرویز اشرف نے کورم کی نشاندہی کر دی۔ سپیکر نے گنتی کرائی اور کورم پورا نہ ہونے کے باعث اجلاس کی کارروائی ملتوی کر دی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||