BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 September, 2004, 05:48 GMT 10:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان میں جھڑپیں، چھ ہلاک
وزیرستان میں یہ جھڑپیں کئی ماہ سے جاری ہیں
وزیرستان میں یہ جھڑپیں کئی ماہ سے جاری ہیں
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بتایا ہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے نواحی علاقہ کانی گرم میں مبینہ طور پر القاعدہ کے حامی شدت پسندوں اور فوج کے درمیان مسلح جھڑپوں میں چھ سے آٹھ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز کے کچھ اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب سے سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں میں مسلح جھڑپیں جاری ہیں اور اتوار کی شام تک ملنے والی اطلاعات کے مطابق اب بھی وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں۔

جب ان سے ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی شہریت کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ تصدیق نہیں کر سکتے کہ آیا ہلاک شدگان غیر ملکی ہیں یا مقامی لوگ۔

زخمی فوجیوں کی تعداد سمیت دیگر تفصیلات کے متعلق سوال پر میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا کہ وہ اس ضمن میں کوئی تفصیلات نہیں بتانا چاہتے۔

پشاور سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نامہ نگارہارون رشید نے بتایا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں لدھا سب ڈویژن کے کاروان منزہ علاقے سے اتوار کی صبح قبائلیوں اور فوج کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اور خدشہ ہے کہ فریقین کو جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

کاروان منزہ کے علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق قبائلیوں نے صبح پانچ بجے پیش قدمی کی اور فوجی ٹھکانوں کو ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنانا شروع کیا۔

فوج نے بھی جوابی کارروائی شروع کر دی ہے اور آخری اطلاعات تک تصادم جاری تھا۔

جانی نقصان کے بارے میں ابھی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ملی ہے البتہ خاصے نقصان کا خدشہ ہے۔

قبائلیوں کی جانب سے سنیچر کی رات ایک بجے سکاؤٹس تحصیل بلڈنگ مکین پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا البتہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ سیکیورٹی دستوں نے جوابی کارروائی کی اور یہ تصادم دو گھنٹے تک جاری رہا۔

کئی راکٹ اور گولے شہری آبادی میں گرنے کی بھی خبر ہے جن سے مکانات کو نقصان پہنچا ہے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد