BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 September, 2004, 15:55 GMT 20:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اغواء شدہ فوجی کی رہائی کا وعدہ

وانا میں ہونے والی جھڑپوں کے درمیان نجی املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے
وانا میں ہونے والی جھڑپوں کے درمیان نجی املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مشتبہ عسکریت پسندوں کا کہنا ہے کہ وہ یرغمال بنائے جانے والے ایک فوجی کو اس کے والدین کی اپیل پر رہا کر دیں گے۔

اپنے آپ کو ’مجاہدین’ کا کمانڈر بتانے والے عبداللہ محسود نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے اس رہائی کا فیصلہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا یہ رہائی قومی اور بین القوامی ذرائع ابلاغ کے سامنے کی جائے گی۔

اس اغوا کے بارے میں پاکستان فوج کا کوئی ردعمل ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔

ادھر کئی روز تک شدید لڑائی کے بعد جمعرات کے روز جنوبی وزیرستان میں قدرے خاموشی رہی۔ البتہ کاروان منزہ کے ایک رہائشی نے بتایا کہ سکیورٹی دستوں نے شام کے وقت دوبارہ مشتبہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔

بدھ کی شام کسی نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون پر بات کرتے ہوئے اغوا کاروں نے مبینہ یرغمال محمد شعبان کی بھی بی بی سی اردو سروس سے بات کروائی۔

شعبان نے بتایا کہ ان کا تعلق صوبہ پنجاب میں ملتان سے ہے اور وہ فوج میں بطور ڈرائیور فرائض انجام دے رہے تھے۔ اس نے اپنے والد کا نام محمد رمضان بتایا۔ اس کا کہنا تھا کہ اغوا کاروں نے اسے یقین دلایا ہے کہ وہ اسے جلد رہا کر دیں گے اور فل الحال ان کا رویہ اس سے اچھا رہا ہے۔

اپنے لہجے سے پنجابی معلوم ہونے والے غیرشادی شدہ شعبان نے کہا کہ وہ اپنی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوجی کارروائی فوراً بند کر دے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کا تعلق انتہائی غریب خاندان سے ہے اور اس کے والدین اس کے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔

انہیں اطلاعات کے مطابق منگل کے روز وانا سے ڈیرہ اسماعیل خان ایک فوجی قافلے کی شکل میں جاتے ہوئے سروکئی کے مقام پر ایک حملے کے دوران اغوا کر لیا گیا تھا۔

ایک مقامی جنگجو کمانڈر عبداللہ محسود نے اس سے قبل دعوی کیا تھا کہ انہوں نے اس شخص کو اغوا کرنے کے علاوہ پانچ فوجی گاڑیاں نذر آتش اور کئی فوجیوں کو ہلاک بھی کر دیا تھا۔

اس دعوی یا حملے کے بارے میں فوج کی جانب سے ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اس بارے میں فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان سے رابطے کی کوششیں بار آور ثابت نہیں ہوسکیں۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ مشتبہ عسکریت پسندوں نے کسی اغوا کئے جانے والے فوجی سے اس طرح صحافی کی بات کروائی ہو۔

اس سے قبل اس سال مارچ میں بھی اسی مقام پر ایک فوجی قافلے پر حملے میں ایک درجن فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اس موقعے پر بھی فوجی حکام نے سات مزید فوجیوں کے اغوا کے بارے میں کئی روز تک خاموش اختیار کئے رکھی تھی اور جب ان کی لاشیں ملیں تو فوج نے ان کے اغوا کو تسلیم کیا تھا۔

ایک مقامی صحافی نے موقعے کا دورہ کر کے بتایا کہ دو افراد کی لاشیں اب بھی جائے وقوع پر پڑی تھیں۔ صحافی نے تین فوجی گاڑیاں جن میں ایک ٹرک، ایک پک اپ اور ایک جیپ تباہ حالت میں دیکھی ہے۔

دیگر علاقوں میں بھی منگل کی رات اور بدھ کے دن جھڑپوں کے جاری رہنے کی اطلاعات ملیں ہیں جن میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد