BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 September, 2004, 17:07 GMT 22:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’معمول کے کام رک گئے ہیں‘
وانا میں فوجی آپریشن جاری
وانا میں فوجی آپریشن جاری
پاکستانی فوج اور پشتون قبائلیوں کیلئے افغانستان کے سرحد پر واقع جنوبی وزیرستان کا شہر وانا جنگ کا میدان بن گیا ہے۔ یہاں نہ تو غیرمقامی لوگوں کو جانے کی اجازت ہے اور نہ ہی صحافیوں کو۔ وہاں کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ روزمرہ کے کام تک نہیں سر انجام دے سکتے۔ وانا سے کچھ لوگوں نے فون پر بی بی سی اردو سروس کو یہ بتایا۔ اگر آپ وانا کے علاقہ میں ہیں یا جنوبی وزیرستان میں ہونے والے آپریشن کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں تو اس کا حال ہمیں لکھ بھیجیں۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام شائع نہیں کریں گے۔


سراج محسود، پرچون فروش، وانا شہر

آپریشن کی وجہ سے میری دکان چار ماہ سے بند پڑی ہوئی ہے اور مجھے خدشہ ہے کہ دکان میں پڑی ہوئی ساری اجناس چوہے کھا چکے ہوں گے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میرا جرم کیا ہے کہ مجھے اپنی دکان کھولنے کی اجازت نہیں ہے۔ میرا گزارہ دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ میں قرض لے لے کر گزارہ کر رہاہوں۔
چار رشتہ دار
کل کچھ لوگ وہاں سے زخمیوں کو لے کر وانا شہر آئے تھے۔ ان کے بقول میرے چار رشتہ دار گزشتہ ہفتے کے دوران مارے جا چکے ہیں۔
سراج محسود، پرچون فروش

میرا اپنےگھر والوں کے ساتھ ایک ہفتہ سے رابطہ نہیں ہو رہا کیونکہ میرے گاؤں میں بھی آرمی آپریشن ہو رہا ہے۔ کل کچھ لوگ وہاں سے زخمیوں کو لے کر وانا شہر آئے تھے۔ ان کے بقول میرے چار رشتہ دار گزشتہ ہفتے کے دوران مارے جا چکے ہیں۔ یہاں خانہ جنگی کی صورتِ حال ہے کیونکہ لوگ جواباً فوج کے جوانوں کومار رہے ہیں۔


محمد ناصر، زمیندار

میں ایک درمیانے درجہ کا زمیندار ہوں۔میں ایک سیبوں کے باغ کا مالک ہوں۔ ہمارے علاقے میں سیب بہت اچھا ہوتا ہے۔ پچھلے سال مجھے بہت اچھی فصل ملی اور میں نے اس سے تین لاکھ روپے کمائے لیکن اس سال حالات بہت خراب ہیں۔ تین ماہ سے، وہ سڑکیں جو وانا کو ملک کے دوسرے حصوں سے ملاتی ہیں، بند ہیں۔ میں اپنی فصل بیچ نہیں پایا اور قرض لینے پر مجبور ہو چکا ہوں۔
میرے خیال میں تمام غیر ملکی عناصر ہمارے علاقے سے جا چکے ہیں مگر فوج ابھی تک علاقے میں موجود ہے اور پکڑ دھکڑ کر رہی ہے۔


شمس الدین، طالبِ علم

میری عمر سترہ سال ہے اور میں وانا شہر کے ڈگری کالج میں پڑھتا ہوں۔ پچھلے چار ماہ سے میری پڑہائی تباہ ہو کر رہ گئی ہے اور میں ذہنی مریض بنتا جا رہا ہوں۔ میں دن کو کالج جاتا ہوں جبکہ رات کو پہاڑوں پر موجود فوجی کیمپوں کی چوکیداری کرتا ہوں۔ وہ لوگ معاوضہ بھی نہیں دیتے۔

جب بھی کوئی شدت پسند فوج پر حملہ کرتا ہے تو فوج ہم سے انتقام لیتی ہے۔ یہاں اب کوئی غیر ملکی دہشت گرد نہیں۔ میرا خیال ہے کہ آج کل فوج پر حملے وہی لوگ کر رہے ہیں جن کو فوج تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔


مسیح الدین، میڈیکل سٹور، وانا شہر

میرا میڈیکل سٹور چار ماہ سے بند ہے اور مقامی انتظامیہ مجھے سٹور نہیں کھولنے دیتی۔ اگر دکان کھولنے کے لیے جاؤں تو ہراساں کیا جاتا ہے۔ حالیہ آپریشن کی وجہ سے پورے علاقے میں کاروبار معطل ہو کر رہ گیا ہے۔
کاروبار بند
 مقامی انتظامیہ مجھے سٹور نہیں کھولنے دیتی۔ اگر دکان کھولنے کے لیے جاؤں تو ہراساں کیا جاتا ہے۔
مسیح الدین، میڈیکل سٹور

میں کئی دنوں سے بازار سے دور دوائیوں کا ٹھیلہ لگاتا ہوں تا کہ لوگوں کو بنیادی ادویات ملتی رہیں۔ علاقہ میں بہت سی سڑکوں پر آمدو رفت محدود کر دی گئی جس کی وجہ سے معمول کے کام رک گئے ہیں۔
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
MORE FROM YOUR VOICE
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد