شدت پسندوں اور فوجیوں میں جھڑپیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سیکورٹی دستوں اور مشتبہ شدت پسندوں کے درمیان تازہ جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں فریقین نے ایک دوسرے کو جانی نقصانات پہنچانے کے دعوے کئے ہیں۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے کنیگورم علاقے میں کل رات ایک تازہ کارروائی میں مزید چھ مشتبہ شدت پسند ہلاک کر دیئے گئے ہیں۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا تھا کہ برکی قبائل کے علاقے میں کل رات کی کارروائی چھ شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا جن میں سے پانچ غیرملکی تھے۔ اس کے علاوہ علاقے میں مختلف چیک پوسٹوں سے پانچ مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے جن کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ البتہ اپنے آپ کو مجاہدین کمانڈر کہلوانے والے ایک شخص عبداللہ اور ایک اور شخص نے نام نہ بتانے کی شرط پر ٹیلیفون پر بتایا کہ انہوں نے کڑوانہ منزہ علاقہ میں فوج پر حملہ کیا ہے اور انہیں محاصرے میں لے کر کئی گاڑیاں کو تباہ کرنے کے علاوہ اٹھائیس فوجی ہلاک جبکہ سات کو زخمی کر دیا ہے۔ محسود مزاحمت کاروں کے ساتھی کا کہنا تھا کہ اس لڑائی میں ان کے بھی دو ساتھی ہلاک ہوئے ہیں۔ اس نے محاصرہ شدہ فوجیوں کو کل دوپہر بارہ بجے تک ہتھیار ڈالنے کی مہلت دی ہے۔ ساتھ میں اس نے دنیا سے اپیل بھی کی ہے کہ وہ آکر ان کا علاقہ دیکھیں اور کسی غیرملکی کی موجودگی کا ثبوت ملنے کی صورت میں ان پر ایٹم بم گرانے کی بھی وہ مخالفت نہیں کریں گے۔ تاہم اس تازہ دعوے کی سرکاری یا آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ فوج کے ترجمان نے گاڑیوں کے تباہ ہونے کی تردید کی البتہ فوج کو بھی جانی نقصان کی تصدیق کی لیکن اس بارے میں مزید کچھ بتانے سے گریز کیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہ کیا مارے جانے والوں میں القاعدہ کے اعلی رہنما بھی شامل تھے تو شوکت سلطان نے کہا ان کی معلومات کے مطابق ابھی ایسا کوئی وہاں نہیں تھا۔ انہوں نے بمباری میں پچاس افراد کے ہلاک ہونے کا دفاع کیا اور کہا کہ وہ سب کے سب شدت پسند تھے۔ ادھر حکام نے آج کاکاخیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی وانا بازار میں پہلے سے سیل تقریبا سو دوکانیں بلذوزروں اور دھماکہ خیز مواد سے گرا دیں ہیں۔ ان کارروائیوں پر مقامی آبادی میں شدید غم اور غصہ پایا جاتا ہے۔ مقامی رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالمالک نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فوج نے ظلم کی انتہا کر دی ہے اور اگر یہ جاری رہا تو وہ لوگوں کو سڑکوں پر لے آئیں گے اور لانگ مارچ کریں گے۔ بظاہر جنوبی وزیرستان میں کشیدگی میں زبردست اضافہ دیکھا جا رہا ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ حالات قابو میں ہیں۔ جنوبی وزیرستان کے دِلا خولہ علاقے میں جمرات کی صبح فوجی طیاروں کی بمباری سے پچاس افراد کی ہلاکت کا معمہ ابھی پوری طرح حل نہیں ہوا ہے کہ تازہ لڑائی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||