 |  قبائلی علاقوں میں فوج کے خلاف شدید غصہ پایا جاتا ہے |
جنوبی وزیرستان میں پاکستانی فوج اور قبائلیوں کے درمیان مہینوں سے جاری رہنے والی کشیدگی میں شدت آئی ہے۔ فوج نے دعویٰ کیا کہ دس ستمبر کو جنوبی وزیرستان میں پاک فضائیہ نےکارروائی کر کے شدت پسندوں کے ایک کیمپ کو تباہ کر دیا جس میں فوجی ترجمان کے مطابق پچاس شدت پسند ہلاک ہو گئے۔ یہ کارروائی لدھا سب ڈویژن میں کی گئی تھی جہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے مقامی باشندے تھے۔ اب مسلح افراد پاکستانی فوج کے ٹھکانوں پر ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے حملے کررہے ہیں۔ مسلح افراد فوج پر حملے کرنے کے لئے راکٹوں کا بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں امریکہ کے لئے مبینہ شدت پسندوں کی تلاش میں فوج جنوبی وزیرستان اور دیگر ایجنسیوں میں کارروائیاں کرتی رہی ہے جس کے نتیجے میں مقامی لوگوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ جنوبی وزیرستان کے علاوہ حالیہ مہینوں میں دیگر قبائل اور ایجنسیاں بھی اس طرح کی لڑائی کے لئے سرخیوں میں رہی ہیں۔ چند روز قبل مقامی رہنماؤں نے سرکاردی اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ وہ علاقہ ہے جو نیم خودمختار رہا ہے۔ آپ کے خیال میں مہینوں سے جنوبی وزیرستان اور دیگر ایجنسیوں میں کی جانے والی فوجی کارروائی کا پاکستان کی سالمیت پر کیا اثر ہوگا؟ اگر آپ اس علاقے میں رہتے ہیں تو ہمیں لکھئے کہ فوج اور 'شدت پسند' کیا کررہے ہیں؟ کیا مسلح افراد کو مقامی آبادی کی حمایت حاصل ہے؟ کیا غیرملکی لوگوں نے اس علاقے میں پناہ لے رکھی ہے؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں
جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان: اس سے فوج عوام کے اندر اپنا مقام کم کرے گی اور خواہ مخواہ قومی سرمایہ ضائع ہوگا۔ شہزاد، امریکہ: اگر پاکستان نہیں کرتا تو امریکہ کرتا۔ یہ پاکستانی عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اس کام کے لیے کس کو منتخب کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ امریکہ کو نہ کہہ سکے۔ محسن علی، کراچی، پاکستان: حکومت پاکستان اچھا کام کر رہی ہے۔ یہ لوگ نہ صرف ملک کے اندر بلکہ باہر بھی دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ ملک میں امن اور آزادی کے لیے ہمیں فوج کی حمایت کرنا ہوگی۔ اسد سرفراز، لاہور، پاکستان: دہشت گردوں کو نکالنے لیے جو طریقہ استعمال کیا جا رہا ہے وہ غلط ہے۔ اس مسئلے کو آرمی آپریشن سے نہیں بلکہ بات چیت کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔ ہماری فوج مشرقی پاکستان کا سبق بھول گئی ہے۔ اس آپریشن کا مقصد مشرف کے اقتدار کو بچانا ہے۔ طاہر، ایڈمونٹن، کینیڈا: پاکستانی فوج امریکہ کے ایجنڈے پر عمل کر رہی ہے۔ آخر کار قبائلی پاکستان کے مخالف ہو جائیں گے اور ملک سے علیحدگی پر مجبور ہوجائیں گے۔ اور یہی پاکستان کے مخالف چاہتے ہیں۔ آصف، اوسلو، ناروے: پاکستانی فوج وانا میں اپنے ہتھیاروں اور بموں کے تجربے کر رہی ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ مشرف صاحب کہیں ایٹم بم کا تجربہ بھی وہیں نا کریں۔ رضوان عباس، دمام، سعودی عرب: مجھے اتنا پتہ ہے کہ کبھی اس علاقے میں جانا ناممکن تھا۔ ملک کے سارے بڑے قاتل اور دہشت گرد اس علاقہ غیر میں رہتے تھے اور سب کچھ جانتے ہوئے کسی حکومت میں ان پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں تھی۔ ایک دن تو کسی کو پہل کرنا تھی۔ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا تو پڑتا ہے۔ کامران خان، کراچی، پاکستان: یہ اچھی بات ہے کہ کسی میں تو اتنی ہمت ہوئی کہ دہشت گردوں کا مقابلہ کر سکے۔ پاکستان سے دہشت گردوں کو نکالنا ہی ہمارے فائدے میں ہے۔ ہم مشرف کی پالیسی کی پوری حمایت کرتے ہیں۔ اگر قبائلی لوگ اتنے محب وطن ہوتے تو القائدہ کے ارکان اور حامیوں کو پناہ نہ دیتے بلکہ ان کو حکومت کے حوالے کر دیتے۔ سجاد صادق، ٹیکسلا، پاکستان: پاکستان کی افواج نے خود ہی ان مجاہدین کو افغانستان میں امریکہ کی مدد کے لیے تیار کیا اور خود ان کو دہشت گرد کہہ کر ہلاک کر رہے ہیں۔ کیا پاکستانی فوج پاکستان میں رہنے والے شہریوں کو انسان نہیں سمجھتی۔ اس کو شرم آنی چاہیے کہ خدا امریکہ نہیں اوپر والا ہے۔ کر | اپنا ہی کیا دھرا ہے  پہلے تو تربیت ہی نہ دیتے اور ان کو مجبور ہی نہ کرتے دہشت گرد بننے پر، تو آج آپ اس مصیبت میں نہ ہوتے۔ اب اپنا ہی سر ہے اور اپنی ہی جوتیاں پڑ رہی ہیں۔  ن احمد، ٹورانٹو | ن احمد، ٹورانٹو: پہلے تو تربیت ہی نہ دیتے اور ان کو مجبور ہی نہ کرتے دہشت گرد بننے پر، تو آج آپ اس مصیبت میں نہ ہوتے۔ اب اپنا ہی سر ہے اور اپنی ہی جوتیاں پڑ رہی ہیں۔ عامر سلیم، نارتھ وزیرستان: میں ایک قبائلی ہوں۔ ہم مہمان نواز ہیں کیونکہ ہم دہشتگردوں کو پناہ دیتے ہیں۔ ہم بہادر ہیں کہ ہم بجلی کے بل دیتے ہیں نہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ہماری بہادری کی یہ حد ہے کہ ہم عزت و ناموس کے نام پر اپنی خواتین کو قتل کر دیتے ہیں۔ ہم اصل میں مسلمان ہیں اور باقی تمام دنیا غیرمسلم ہے اس لیے انہیں جینے کا کوئی حق نہیں۔ کاشف قریشی، نواب شاہ: پاکستان جو بھی کر رہا ہے وہ صرف امریکہ کا حکم پورا کرنے کے لیے کر رہا ہے۔ نو ستمبر سے پہلے اس علاقے کے لوگ دہشت گرد نہیں تھے لیکن پھر اچانک کیا ہوا کہ یہی لوگ پاک آرمی کو دہشت گرد دکھائی دینےلگے اور ان کے خلاف محاذ جنگ کھل گیا۔ ان لوگوں نے حکومت پاکستان کے خلاف کوئی جنگ نہیں کی اور نہ ہی یہ لوگ پاکستان کے خلاف ہیں بلکہ اس کے برعکس یہ تو پاکستان کے ہمدرد ہیں۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ امریکہ ہمارا حاکم ہے اور سب کچھ اسی کے کہنے پر ہو رہا ہے۔ خان، امریکہ: جنرل مشرف جو کچھ امریکہ کے اشاروں پر کر رہے ہیں انشا اللہ صدر مشرف اور امریکہ کا حال بھی روس کا سا ہو گا۔ عامر سلیم، پاکستان: امریکہ ہمیں نہ تو عبادت کرنے سے روکتا ہے، نہ روزہ رکھنے سے، نہ تبلیغ اسلام سے اور نہ کاروبار کرنے سے۔ وہ تو بس یہ کہتے ہیں کہ ہمیں نہ مارو۔ لیکن ہم بحیثیت مسلمان ان سے بات نہیں کرنا چاہتے۔ محمد وقاص، ملبورن: پاکستانی فوج کو بھارتی فوج کی مقبوضہ کشمیر میں کارروائیوں کے خلاف جو اخلاقی برتری تھی وہ اب ختم ہو گئی ہے۔ اسلام کے نام پر بنا فوج امریکہ کے لیے کرائے کے قاتل کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ذیشان قمر، دبئی: اگر احمقوں کے سر پر سینگ ہوتے تو ہماری حکومت ’بارہ سنگا‘ ہوتی۔ حکمران اپنی بےوقوفی سے پہلے ہی افغانستان میں اپنی کمر خالی کر چکے ہیں اور رہی سہی کسر وانا میں آپریشن کے دوران پوری کی جا رہی ہے۔ حیدر رند، ٹھٹھہ، پاکستان: بُش چنگیز خان بن چکے ہیں جبکہ مشرف میر جعفر اور میر صادق کا سا کردار ادا کر رہے ہیں۔ خالد سمن سلمان، کراچی، پاکستان: پاکستان آرمی ان فورسز سے زیادہ طا قتور نہیں جو ماضی میں قبائلی علاقوں میں اسی قسم کے عزائم کے ساتھ گئی تھیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان طاقتوں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ وقاص اعوان ، ہری پور، پاکستان: میرا خیال ہے پاکستانی حکومت بالکل ٹھیک اقدامات کر رہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ دوسری طرف غیر ملکی بھی ہمارے مسلمان بھائی ہیں۔ حماد رضا بخاری،فیصل آباد، پاکستان: کسی بھی ملک کے اچھے مستقبل کی بنیاد لڑائی پر نہیں رکھی جا سکتی۔ شاہیر ظہور، لاہور، پاکستان: وہ لوگ جنہیں دنیا میں کہیں اور جگہ نہیں ملی انہیں یہ حق نہیں ہے کہ وہ ہمارے ملک کا سکون تباہ کرنے کے لیے آ جائیں۔ لیکن یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ فوج بھی ہماری اپنی ہے اور جو بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں وہ بھی ہمارے اپنے شہری ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ غیرملکی عناصر کو نکالنے کا کوئی اور طریقہ ڈھونڈا جائے۔ فیض اللہ خان، البدری، صوبہ سرحد، پاکستان: اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ قوم کی کوئی خدمت کر رہی ہے تو وہ سراسر غلط ہے۔ وہ اپنے پرانے آقا امریکہ کو خوش کرنے میں مگن ہے۔
 | آپریشن اور جہاد  میرا خیال ہے کہ حکومت کے پاس اس آپریشن کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ ملاء حضرات معصوم لوگوں کو جہاد کی پٹی پڑھا کر دہشت گردی کی جانب دھکیل رہے ہیں۔  امیرسلیم داور، جنوبی وزیرستان، پاکستان |
امیرسلیم داور، جنوبی وزیرستان، پاکستان: میرا خیال ہے کہ حکومت کے پاس اس آپریشن کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ ملاء حضرات معصوم لوگوں کو جہاد کی پٹی پڑھا کر دہشت گردی کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ ہمیں چا ہیے کہ رسول اللہ کی طرح لوگوں کو اپنے کردار کے ذریعہ اسلام کی تبلیغ کریں نہ کہ دہشت گردی کے ذریعے۔ آزاد خان، ٹا نک،کستان: ہم پشتونوں کو ہمیشہ استعمال کیا گیا ہے۔ پہلے روس کے خلاف اور اب القائدہ کے خلاف۔ عنائت خان، دبئی، یو اے ای: پاکستانی فوج کے جنرل اب کوئی نیا کارنامہ سرانجام دینے والے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لیں۔ صادق خان محسود، شارجہ، دبئی، یو اے ای: افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب تک کی فوجی کارروائی میں نقصان صرف محسود قبیلہ کے بےگناہ لوگوں کا ہوا ہے۔ قبائلی علاقوں کے لوگ نہایت پریشان ہیں کہ وہ جائیں تو جائیں کہاں؟ خدارا پاکستان کے ساتھ ہماری محبت کا یوں جواب نہ دیں اور اس آپریشن کو جلد از جلد بند کریں کیونکہ معصوم لوگ مر رہے ہیں۔ وقار اعوان، کراچی، پاکستان: میرے خیال میں اس آپریشن سے ملک میں انتشار اور بے چینی بڑھے گی اور موجودہ حکومت کے خلاف نفرت بھی۔ حکومت کو چاہیے کہ یا تو وہ اس معاملہ میں رازداری کی پالیسی ختم کرے اور عوام کو اعتماد میں لے اور اگر ایسا نہیں کر سکتی تو اس آپریشن کو فوری طور پر بند کرے۔ مجتبٰے راجپوت، کوئٹہ، پاکستان: معلوم نہیں وہاں پر پاکستانی فوج آپریشن کر رہی ہے یا امریکی۔ لیکن یہ بات صاف ظاہر ہے کہ مسلمانوں کا خون ہو رہا ہے۔
 | جغرافیہ  امریکی مفاد ایک دن ختم ہو جائے گا اور امریکہ یہاں سے چلا جائےگا۔ لیکن یاد رہے وزیرستان کا جغرافیہ پاکستان سے جڑا ہوا ہے۔  ناصر عمر وزیر، وانا، پاکستان |
ناصر عمر وزیر، تحصیل وانا سوا، پاکستان: امریکی مفاد ایک دن ختم ہو جائے گا اور امریکہ یہاں سے چلا جائےگا۔ لیکن یاد رہے وزیرستان کا جغرافیہ پاکستان سے جڑا ہوا ہے۔ عمیر سید، پشاور، پاکستان: سوائے افسوس کے کیا کیا جا سکتا ہے۔ ہم اپنے قبائلی بہن بھائیوں سے شرمندہ ہیں۔ احمد صدیقی، کراچی، پاکستان: لگتا ہے مشرف صاحب پختونستان کی تحریک کو زندہ کرکے چھوڑیں گے۔ فیصل چانڈیو،حیدر آباد، پاکستان: جب یہ بات صدر بُش مان چکے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی تو ہماری حکومت کو یہ ماننے میں کیا عار ہے؟ عاصم علی زیدی، کراچی، پاکستان: وزیرستان کا مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہو سکتا جب تک کہ صدر مشرف کی یہ خوش فہمی دور نہیں ہو جاتی کہ وہ دنیا کے سب سے زیادہ عقلمند انسان ہیں۔ محمد فاروق خان،کاسل، جرمنی: میں نہیں جانتا کہ وہ دہشت گرد ہیں یا نہیں مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ جن لوگوں کے خلاف پاکستان آرمی آپریشن کر رہی ہے وہ مجرم ضرور ہیں۔ ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی سے پاکستان یقیناً محفوظ ہو گا۔ ہارون رشید، سیالکوٹ، پاکستان: اوپن ٹرائل کرایا جائے، تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ فوجی حکومتوں نے ہمیشہ ڈنڈے کے زور پر پاکستان پر حکمرانی کی ہے۔ ساجد امجد، دبئی: یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا جتنا پاکستان آرمی نے بنا دیا ہے۔ اس مسئلہ کا سیاسی حل نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے تا کہ بے قصور جانوں کا مزید ضیاع نہ ہو۔ فضل خالق، سوات، پاکستان: حکومت کو قبائلی علاقوں کے مذھبی رہنماؤوں کے ذریعے بات چیت کا آغاز کلرنا چاہیے۔ اگر معاملات کا فوری حل نہ تلاش کیا گیا تو صورتِ حال کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ سیف الرحمٰن زیلدار، پنجاب، پاکستان: میرا خیال ہے کہ موجودہ کاروائی پاکستان کو امریکہ کی غلامی میں دینے کی جانب ایک قدم ہے۔ دعا کرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو لیکن حالات بتاتے ہیں کہ ایسا ہو کر رہے گا۔ محمد صلاح الدین ایوبی، پشاور، پاکستان: معلوم نہیں پاکستانی فوج کی موجودہ کاروائی میں جن کو مارا جا رہا ہے وہ انتہاپسند ہیں، دہشت گرد ہیں یا مجاہدین۔ آپ ان کو جو نام چاہیں دیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وانا میں بے گناہ لوگ بھی مارے جا رہے ہیں۔ خدارا یہ نہ بھولیے کہ ہرمیزائیل، راکٹ یا شیل جو علاقے پر پھینکا جا رہا ہے کسی شئے کو تباہ کر رہا ہے۔ اور وہ کوئی شئے کسی کی زندگی، ملکیت، یا سب سے بڑھ کر اس شخص کا انسانیت پر ایمان بھی ہو سکتا ہے۔ آئیں کوشش کریں کہ انسانیت پر لوگوں کے ایمان کو بچا لیں ورنہ آنے والے دنوں میں گیارہ ستمبر جیسے کئی واقعات ہو سکتے ہیں۔  | اقتدار کی جنگ؟  جنرلز ملک کی بقا کی جنگ نہیں لڑ رہے بلکہ اپنے آقاؤوں کو خوش کرنے کے لیے قبائلی علاقوں پر بمباری کر رہے ہیں۔ کاش انہیں سمجھایا جا سکتا کہ وہ یہ جنگ نہیں جیت سکتے۔ اور اب تو ان کے آقا، بُش بہادر، بھی یہ بات مان چکے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ یوں نہیں جیتی جا سکتی۔  پٹھان شفاعت محمد خان، شعیبہ، کویت | پٹھان شفاعت محمد خان، شعیبہ، کویت: ٹوِن ٹاورز کے گرنے کے بعد سے پاکستان آرمی نے کرائے کے قاتلوں کے جیسا رویہ اپنا لیا ہے۔ اس روش کے دور رس منفی اثرات ہو سکتے ہیں۔ ناعاقبت اندیش جنرلز قبائلی علاقوں میں مایوسی اور بےچینی پھیلا رہے ہیں۔ یہ جنرلز ملک کی بقا کی جنگ نہیں لڑ رہے بلکہ اپنے آقاؤوں کو خوش کرنے کے لیے قبائلی علاقوں پر بمباری کر رہے ہیں۔ کاش انہیں سمجھایا جا سکتا کہ وہ یہ جنگ نہیں جیت سکتے۔ اور اب تو ان کے آقا، بُش بہادر، بھی یہ بات مان چکے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ یوں نہیں جیتی جا سکتی۔
طارق محمود، سرگودھا، پاکستان: امریکہ ہم سے نہ جانے کب خوش ہو گا؟ نہ جانے اور کتنی قربانیاں دینا پڑیں گیں دوسروں کے لیے؟ پاکستان ایک اندھے کنویں کی طرف بڑھ رہا ہے اور حیرت ہے کہ یہ بات ایک عام شہری کو سمجھ آتی ہے مگر ہمارے حکمرانوں کو نہیں۔ بریال، ملبورن، آسٹریلیا: تاریخ گواہ ہے کہ قبائلی علاقوں کے لوگوں نے ہمیشہ پاکستان کا دفاع کیا ہے۔ یہ لوگ اس وقت کشمیر میں لڑے جب پاکستان کں پاس اپنی فوج نہیں تھی۔ میں پاکستان میں موجود غیر ملکی دہشت گردوں کے خلاف ہوں تا ہم اس کی سزا قبائلی لوگوں کو نہیں دی جا سکتی۔ حکومتِ پاکستان کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ اس جنگ کو روک کر بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرے۔اس سلسلہ میں قوم پرست قبائلی لیڈروں کے ذریعے بات چیت ہو سکتی ہے کیونکہ یہ لوگ بھی غیر ملکی عناصر کے خلاف ہیں اور ان کو علاقے کے لوگوں کا اعتماد بھی حاصل ہے۔ علی عمران شاہین، لاہور، پاکستان: قبائلی دہشت گرد نہیں ہیں۔ پاکستان کی حکومت وہی کر رہی ہے جو امریکہ کا حکم ہے کیونکہ صدر مشرف کی حکومت امریکہ کے دباؤ میں ہے۔  | پاکستان پاکستانیوں کیلیے ہے  پاکستان دنیا بھر کے جہادیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ مگر اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کوایسے لوگوں سے پاک کیا جائے۔ پاکستان آرمی بالکل صحیح اقدامات اٹھا رہی ہے کیونکہ پاکستان ان لوگوں کے لیے ہے جو اس سے محبت رکھتے ہیں نہ کہ ان کے لیے جو اپنے ملکوں سے بھاگ کر یہاں چُھپے بیٹھے ہیں۔  مشکورملک، ملتان، پاکستان | مشکورملک، ملتان، پاکستان: قبائلی لوگ بہت مہمان نواز واقع ہوئے ہیں۔یہاں تک کہ وہ ان لوگوں کو پناہ دے رہے ہیں جو قوم کے لیے ایک خطرہ ہیں۔ پاکستان دنیا بھر کے جہادیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ مگر اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کوایسے لوگوں سے پاک کیا جائے۔ پاکستان آرمی بالکل صحیح اقدامات اٹھا رہی ہے کیونکہ پاکستان ان لوگوں کے لیے ہے جو اس سے محبت رکھتے ہیں نہ کہ ان کے لیے جو اپنے ملکوں سے بھاگ کر یہاں چُھپے بیٹھے ہیں۔
رضا احمد، دبئی: یہ پاکستان کے لیے افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان کی عوام اپنے خون پسینے کی کمائی فوج کو دیتی ہے اور فوج ہمیشہ لوگوں کی خواہشوں کے خلاف کام کرتی ہے۔ عبداللہ ریحان، سوات، پاکستان: پاکستانی حکومت بالکل غلط کر رہی ہے۔ اصل دہشت امریکہ ہے جبکہ ہماری حکومت قبائلیوں پر بمباری کر رہی ہے۔ اظہر شاہ، کراچی، پاکستان: اگر حکومت اپنے اس دعوے میں سچی ہے کہ اس کی کارروائی صرف دہشت گردوں کے خلاف ہے تو پھر وہ صحافیوں کو قبائلی علاقہ جات میں جانے کی اجازت کیوں نہیں دیتی؟ شوکت حسین، شارجہ، یو اے ای: پاکستان کا حکمران طبقہ اپنے آقا، امریکہ، کو خوش کرنے کی لیے بے گناہ لوگوں کےساتھ خون کی ہولی کھیل رہا ہے۔ 1971 کی تاریخ دھرائی جا رہی ہے۔ زمان شاہ، پیرس، فرانس: میں حکومت کی حمایت کرتا ہوں۔ غیرملکی لوگوں کو پاکستان سے نکل جانا چاہیے۔ایسا لگتا ہے کہ بی بی سی کی ہمدردیاں دہشت گردوں کے ساتھ ہیں۔ شرمین بلوچ، حیدرآباد، پاکستان: ایسی کارروائی پنجاب یا کراچی میں کیوں نہیں کی جاتی؟ بقول خود حکومت کے، انہوں نے نصف سے زیادہ دہشت گرد تو ان ہی علاقوں سے پکڑے ہیں۔ کامران خان محسود، اسلام آباد، پاکستان: میرا تعلق وزیرستان ہے اور میرے خیال میں وہاں پر کوئی غیر ملکی عناصر نہیں۔ اور جب تک ہم وزیرستان کے لوگ ان پڑھ ملاء کو اپنا لیڈر مانتے رہیں گے ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ عاطف قریشی، دبئی: قبائلی علاقوں میں کارروائی بہت پہلے ہوجانا چاہیے تھی۔قبائلی علاقہ جات بھی اسی طرح پاکستان کا حصہ ہیں جیسا کہ دوسرے علاقے اس لیے یہاں کے لوگوں کو بھی پاکستانی قوانین کا احترام کرنا چاہیے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ان علاقوں میں موجودہ کارروائی میں امریکہ کا مفاد بھی شامل ہے ۔ ریشم گُل، کراچی، پاکستان: پاکستانی فوج کی تاریخ رہی ہے کہ ہندوستان سے مار کھاتی ہے لیکن اپنے شہریوں کو بے رحمی سے مارتی ہے۔ آج جن لوگوں کو مارا جا رہا ہے ان کو پاکستان میں لانے کی ذمہ دار بھی ہماری فوج ہے۔ فیصل ندیم آرائیں، رحیم یارخان، پاکستان: یہ اچھا نہیں ہو رہا ہے۔ اس سے قبائلی لوگ پاکستان کے خلاف ہو جائیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرے۔ حکومت پاکستان کو امریکہ کی بجائے پاکستان کا مفاد دیکھنا چاہیے۔ جاوید اقبال بٹ، مدینہ منورہ، سعودی عرب: موجودہ حکومت کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ اس نے یہ قدم اٹھایا ہے کیونکہ قبائلی علاقے، پاکستان کا حصہ ہونے کے باوجود سالہا سال سے ملکی قوانین سے بالاتر رہے ہیں۔افغانستان سے بھاگ کر ان علاقوں میں پناہ لینے والوں کو پکڑنا ضروری ہے۔ آپریشن کے بعد یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت ان علاقوں میں تعلیم اور ترقی پر توجہ دے تا کہ آئندہ یہ علاقے دہشت گردی اور بدامنی کی آماجگاہ نہ بن سکیں۔ علیم حیدر،کینیڈا: 1948 میں اور افغانستان پر روسی فوج کشی کے وقت قبائلی لوگوں کو مجاہدین کہا جاتا تھا۔ اب چونکہ یہ لوگ امریکہ کے خلاف افغانستان میں برسرِپیکار ہیں اس لیے انہیں دہشت گرد کہا جا رہا ہے۔ کامران خان، محسود ملک شاہی، جنوبی وزیرستان، پاکستان: جو حالات ہیں اس سے تو شمالی علاقہ جات میں بغاوت کے آثار نظر آتے ہیں اور لوگوں کی فوج سے نفرت کا اظہار ہوتا ہے۔ عبدرمنوبھائی، بہاول نگر، پاکستان: یہ پاکستان کے لیے اچھا نہیں ہے۔ حکومت کو یہ مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔  | دال میں کچھ کا لا  اگر وہاں لوگ رجسٹریشن کے لیے تیار نہیں ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ دال میں کچھ کا لا ضرور ہے۔  عمران نقوی، امریکہ |
عمران نقوی، امریکہ: میرے خیال میں تو دہشت گرد ان علاقوں میں موجود ہیں۔ افغانستان میں بمباری کے دوران یہ ڈرپوک لوگ یہاں آکر چھپ گئے ہیں اور بے چارے پاکستانی وہاں کی جیلوں میں سڑتے رہے۔ اس کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ اگر وہاں لوگ رجسٹریشن کے لیے تیار نہیں ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ دال میں کچھ کا لا ضرور ہے۔ علی مردان شاہ، بدین، پاکستان: وانا آپریشن کا مقصد فوج اور عوام میں نفرت پیدا کرنا اور ڈالر کمانا ہے۔ اس سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ آصف، امریکہ: پاکستان کو نئے نئے تجربات کی لیبارٹری کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ فوج صرف ایک صوبے کی نمائندہ بن کر وانا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے نام پر اپنے ہی لوگوں کا خون کر رہی ہے۔ عبدالصمد، اوسلو، ناروے: وزیرستان کا مسئلہ خالص سیاسی ہے نہ کہ فوجی۔ ہمیں سولہ دسمبر انیس سو اکہتر کا دن یاد رکھنا چاہیے۔ عقیل احمد، سیالکوٹ، پاکستان: پاکستان فوج ملک میں اپنی حمایت کھو رہی ہے کیونکہ یہ سیاست میں بری طرح ملوث ہوچکی ہے اور اپنے ہی لوگوں کو مار رہی ہے۔ سکندر بلوچ، بینکاک: جنوبی وزیرستان میں جو اپریشن ہو رہا ہے اس کی وجہ امریکی دباؤ بھی ہے اور القاعدہ کے تربیتی کیمپ بھی۔ اگر پاکستان آپریشن نہ کرتا تو امریکہ خود آپریشن کرتا۔ محمد سلیم، راوالپنڈی، پاکستان: وانا میں انتہا پسندوں کو کیسے چھوڑا جا سکتا ہے جب یہ لوگ معصوم لوگوں کو قتل اور دہشت گردی کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا۔ حکومت نے اس مسئلے کو افہام وتفہیم سے حل کرنے کی کوشش کی اور لوگوں کو چھوٹ بھی دی مگر اس کا کوئی سود مند نتیجہ نہیں نکلا۔ اب یہ حکومت کی مجبوری ہے کہ وہ ان لوگوں کے خلاف اقدامات کرے جو اسلام اور ملک کو بدنام کر رہے ہیں۔  | کیوں؟  اگر وہاں کوئی دہشت گردی ہے تو حکومت وہاں میڈیا کو جانے کی اجازت کیوں نہیں دیتی؟  شعیب بخاری، پشاور، پاکستان |
شعیب بخاری، پشاور، پاکستان: دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ہماری فوج کس کے لیے کس کو مار رہی ہے۔ کیا یہ وہی لوگ ہیں جو کبھی ہمارے ہیرو ہوا کرتے تھے؟ اگر وہاں کوئی دہشت گردی ہے تو حکومت وہاں میڈیا کو جانے کی اجازت کیوں نہیں دیتی؟ سید رفاقت حسین شاہ، سعودی عریبیہ: ملے جو موقعہ بروزِ حشر، میں صاحبِ حشر سے یہ پوچھوں نفس نفس مجھ پہ تھی قیامت تو آج روزِ حساب کیسا؟ محمد عامر خان، کراچی، پاکستان: قبائل اور ایجنسیز کی کس بات پر حمایت کی جائے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے پورے ملک میں اسلحہ، بارود، منشیات اور ہر وہ چیز جس سے انسانیت متاثر ہوتی ہے، پھیلائی۔ وحید رحمان، برطانیہ: گیارہ ستمبر جب بھی قریب آتا ہے، پاکستانی حکومت کچھ نہ کچھ ایسا کرتی ہے کہ جس سے دنیا کو باور ہو کہ وہ اس جنگ میں پیش پیش ہے۔ پچھلے سال بھی غالباً انہی دنوں میں کراچی کے ایک رہائشی علاقے میں کچھ لوگوں کو پکڑا گیا تھا اور اس بار بھی یہی کچھ کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ جس کیمپ کو دہشت گردی کی تربیت کا مرکز قرار دے کر وہاں حملہ کیاگیا، اس کے بارے میں تصدیق کیسے کی گئی۔ پھر یہ کون سا انصاف ہے کہ جہاں شدت پسند نظر اسے بم سے اڑا دو، نہ کوئی مقدمہ، نہ صفائی، نہ پوچھ گچھ۔ لگتا ہے کہ پاکستان کے حالات تقسیم کی طرف جا رہے ہیں۔ ذیشان امین، پاکستان: یہ سب کچھ افغان جہاد کی پیداوار ہے۔ پاکستان نے افغانستان میں دخل اندازی کرکے بہت بڑی غلطی کی۔ کیا افغانستان میں مسلمان مسلمان کا قتل نہیں کر رہے تھے۔ ہم خود دوسروں کو موقعہ دے رہے ہیں کہ وہ ہم پر حملہ کریں۔ نوید احمد، گجرانوالہ، پاکستان: حکومتِ پاکستان یہ اچھا نہیں کر رہی، اس سے بےچینی میں اضافہ ہوگا اور اندرونی حالات خراب ہوں گے۔  | کیسے نہیں سمجھتے؟  امریکہ کو خوش کرنے کی اندھا دھند کوشش میں ہمارے حکمران ایک اور بنگلہ دیش بنانے جا رہے ہیں۔ ہم ایک عام شہری ہوکر یہ بات سمجھتے ہیں تو مشرف صاحب جو اپنے تئیں دنیا میں سب سے زیادہ عقلمند ہیں، وہ یہ بات کیسے نہیں سمجھتے؟  صوباس تھہیم، سعودی عریبیہ |
صوباس تھہیم، سعودی عریبیہ کل کی خبروں میں دیکھا کہ وانا میں بچے فوجی ٹرک پر پتھر مار رہے ہیں اور نظروں میں فلسطین کے مناظر گھوم گئے۔ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ پاکستانی فوج کے بارے میں وزیرستان میں کیا جذبات پائے جاتے ہیں۔ امریکہ کو خوش کرنے کی اندھا دھند کوشش میں ہمارے حکمران ایک اور بنگلہ دیش بنانے جا رہے ہیں۔ ہم ایک عام شہری ہوکر یہ بات سمجھتے ہیں تو مشرف صاحب جو اپنے تئیں دنیا میں سب سے زیادہ عقلمند ہیں، وہ یہ بات کیسے نہیں سمجھتے۔ اشفاق تانگرا، کبیروا خانیوال: پاکستانی حکومت کا یہ اچھا کام نہیں ہے۔ پاکستانی حکومت ہمارے لئے اور پاکستانی عوام کے لئے مشکلات پیدا کررہی ہے۔ حکومت سب کچھ امریکہ کے لئے کررہی ہے۔ اید میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی فوج اور قبائلی علاقے کے لوگوں کے درمیان لڑائی ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن یہ پاکستان کے مسقتبل کے لئے اچھا ہے کیونکہ وہاں کئی غیرملکی دہشت گرد ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کو یہ اقدام کرنا پڑرہا ہے۔ اسماعیل خان، مروت یہ بالکل غلط بات ہے کہ وہاں دہشت گرد موجود ہیں۔ یہ قبائلی لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ محمد ایاز، ٹیکسلا ان کو بہت پہلے ختم کردینا چاہیے تھا، چاہے وہ اپنے ہوں یا غیرملکی۔ عبدالرحیم احمد، واٹرلو، کینیڈا: سن دوہزار چار کے آغاز میں ہمیں پاکستان میں امریکیوں کی جانب سے کی جانیوالی کارروائی کے بارے میں معلوم ہوا تھا۔ لیکن یہ کام امریکیوں نے نہیں کیا، یہ کام وہ پاکستانی کررہے ہیں جو امریکیوں کے جوتے چاٹتے ہیں۔۔۔۔ عدیل امتیاز، برطانیہ: شاباش ہے پاکستانی فوج کو۔۔۔۔صرف مسلم بھائیوں کا خون بہائیں۔۔۔ کہاں گیا وہ انیس سو پینسٹھ کا جذبہ؟ کیا جواب دو گے اللہ کو؟ پلیز کچھ سوچو اس سے پہلے کہ تم کو اللہ کے کٹہرے میں ذلیل ہونا پڑے۔ مقیط شاہ، گلگت: میں کبھی کبھی آپ کے صحافیوں میں جانبداری محسوس کرتا ہوں، کچھ واقعات کے بارے میں۔ وانا کے بارے میں۔۔۔۔ (آپ کے ایک تجزیہ کار) کے ذاتی خیالات سننے کو ملے۔ لگتا ہے کہ وہ امریکہ مخالف، مغرب مخالف ہیں، اور طالبان کی حمایت کرتے ہیں۔ وہ حکومت مخالف بغاوت پر ضرورت سے زیادہ روشنی ڈالتے ہیں بمقالے حکومت کی کارروائیوں کے۔ عبید خان، شیکاگو: پاکستانی فوج کو انیس سو ستر کی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔ اس وقت بنگلہ دیش بنا تھا۔ فوج نے صرف پاکستان کو نقصان دینے کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ پاکستان کی فوج صرف اور صرف اپنے شہری ہی ہلاک کرتی آئی ہے۔ یہ صرف پاکستانی فوج کی تاریخ میں ہے کہ اپنے شہریوں کو مارو اور دشمن سے مار کھاؤ۔ جنوبی وزیرستان بھی پاکستان کا ہی حصہ ہے، بھائی سے پیارے سے بات کی جاتی ہے۔ ہم صرف امریکہ کو خوص کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
|