قومی اسمبلی میں واک آؤٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی میں جمعرات کی شام بھی صدر جنرل پرویز مشرف کی وردی، جنوبی وزیرستان اور وانا کے معاملات چھائے رہے۔ حزب مخالف کی جماعتوں نے نکتۂ اعتراضات پر ان معاملات کے بارے میں بات کرنا چاہی لیکن سپیکر نے انہیں اجازت نہیں دی جس کے خلاف انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے علامتی واک آؤٹ کیا۔ حزب اختلاف کے رکن اسمبلی چودھری نثار علی خان نے نکتۂ اعتراض پر کہا کہ اس وقت ملک میں صدر کی وردی اور وانا سے زیادہ کوئی اہم ایشو نہیں لہٰذا ان پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وردی کا مسئلہ ملکی سطح کا ہے اس لیے صوبائی اسمبلیوں کو اس معاملے پر قراردادوں سے گریز کرنا چاہیے۔ راجا پرویز اشرف، حافظ حسین احمد اور قبائلی علاقوں کے نمائندوں نے بات کرنا چاہی لیکن انہیں سپیکر نے کہا کہ وردی اور وانا کے متعلق ان کی تحاریک التویٰ زیر غور ہیں اور فی الوقت وہ ان پر بات نہیں کر سکتے۔ سید خورشید احمد شاہ اور ناہید خان نے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کے اس بیان کے متعلق جس میں انہوں نے کہا تھا کہ صدر نے وردی نہ اتارنے کا فیصلہ کرلیا ہے، احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ان کا وہ بیان قوم اور پارلیمان کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا ایک جانب وزیر اطلاعات وردی نہ اتارنے کا فیصلہ ہونے کی بات کرتے ہیں اور دوسری جانب وزیراعظم کہتے ہیں کہ صدر کو ابھی فیصلہ کرنا ہے۔ ان کے بقول حکومت واضح کرے کہ درست صورتحال کیا ہے۔ حزب مخالف کی جماعتوں کے اراکین بولنا چاہتے تھے لیکن سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین نے ان کے نکتۂ اعتراضات مسترد کرتے ہوئے انہیں بولنے سے روک دیا۔ سپیکر کے اس رویہ کے خلاف حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے احتجاجی طور پر علامتی واک آؤٹ کیا۔ وزیراطلاعات شیخ رشید نے حزب اختلاف کی تنقید کا جواب دیے بغیر کہا کہ وردی کے معاملے پر سپیکر نے رولنگ دے رکھی جس سے معاملہ واضح ہے۔ البتہ انہوں نے وانا کے متعلق کہا کہ حکومت حزب مخالف جماعتوں کو بریفنگ دے گی تاکہ انہیں حقائق معلوم ہوں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||