BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 September, 2004, 10:28 GMT 15:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وردی کے معاملے پر تحریک مسترد

اکتیس دسمبر تک آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے کی بات کی گئی تھی
اکتیس دسمبر تک آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے کی بات کی گئی تھی
قومی اسمبلی کے سپیکر چودھری امیر حسین نے صدر جنرل پرویز مشرف کی فوجی وردی کے متعلق اپوزیشن کی تحاریک استحقاق خلاف ضابطہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردی ہیں۔

منگل کے روز ایک جیسی تحاریک حزب اختلاف کی جماعتوں مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز اور چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی جانب سے علیحدہ علیحدہ پیش کی تھیں لیکن سپیکر نے انہیں اکٹھا کردیا۔

سپیکر نے حزب اختلاف کی تحاریک پر صبح کے سیشن میں فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو شام کو بلائے گئے خصوصی سیشن میں سنایا۔

حزب اختلاف کی تحاریک میں کہا گیا تھا کہ ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف نے بیان دیا تھا کہ آئین کے مطابق اکتیس دسمبر دوہزار چار تک فوجی وردی اتارنا لازمی نہیں۔

حزب اختلاف کے مطابق صدر کے اس بیان سے پارلیمان کی توہین اور ایوان کا استحقاق مجروح ہوا ہے۔

حکومت نے حزب اختلاف کا موقف مسترد کرتے ہوئے تحاریک کی مخالفت کی اور انہیں خلاف ضابطہ قرار دیا۔ سپیکر چودھری امیر حسین نے دونوں فریق کا موقف سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

یاد رہے کہ قومی اسمبلی کے قواعد کے مطابق کسی شخص کی بات سے اگر پارلیمان یا کسی رکن کا استحقاق مجروح ہو تو اس بارے میں تحریک استحقاق پیش کی جاتی ہے۔اگر تحریک منظور ہوجائے تو ایوان کی متعلقہ کمیٹی کو معاملہ بھیجا جاتا ہے اور متعلقہ شخص کو طلب کرکے وضاحت طلب کی جاتی ہے۔کمیٹی جو بھی کاروائی تجویز کرے تو حکومت اس پر عمل درآمد کی پابند ہوتی ہے۔

منگل کے روز ایوان میں نجی کاروائی کا دن تھا اور ان تحاریک کے ضابطے کے مطابق ہونے کے بارے حزب اختلاف کی جانب سے چودھری اعتزاز احسن نے کہا کہ صدر نے وردی نہ اتارنے کا بیان دے کر آئین کی خلاف ورزی اور پارلیمان کی توہین کی ہے۔

انہوں نے سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں، آئینی نکات، آرمی چیف اور صدر کے حلف ناموں کے اقتباصات پڑھے اور کہا کہ باوردی صدر کی آئین میں گنجائش ہی نہیں۔ اعتزاز احسن نے متحدہ مجلس عمل پر سترویں آئینی ترمیم کی منظوری میں حکومت سے تعاون پر نکتہ چینی بھی کی۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ اس ترمیم کے ڈرافٹ یعنی متن میں ایس ایم ظفر نے چالاکی کی تھی اور متحدہ مجلس عمل کو معلوم بھی تھا۔ انہوں نے متحدہ مجلس عمل اور حکومت کے اس تعاون کے متعلق ایک شعر پڑھا: ’میر بھی کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کی سبب۔‘

ابھی انہوں نے پہلی سطر ہی پڑھی تھی کہ سپیکر نے آواز دی کہ دوسری سطر نہ پڑھنا اور اعتزاز نے کہا کہ وہ نہیں پڑھتے، گھبرائیں نہ۔

متحدہ مجلس عمل کے لیاقت بلوچ اور مسلم لیگ نواز کے چودھری نثار علی خان سمیت بعض دیگر اراکین نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے خود سرکاری ٹی وی چینل، پر قوم کے سامنے وعدہ کیا تھا کہ وہ اکتیس دسمبر تک آرمی چیف اور صدر مملکت کے دو عہدوں میں سے ایک چھوڑ دیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ صدر مملکت سترویں آئینی ترمیم کے مطابق اکتیس دسمبر تک ایک عہدہ چھوڑنے کے پابند ہیں اور ان کا وردی اتارنے کو آئینی طور پر لازم نہ کہنا ایوان کی توہین ہے، لہذا تحریک استحقاق منظور کی جائے۔

حکومت کی جانب سے وزیر قانون وصی ظفر اور وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن نیازی نے حزب اختلاف کا موقف مسترد کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف کے بیان کو درست قرار دیا اور تحاریک مسترد کرنے کی استدعا کی۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سپیکر کی رولنگ سے صدر جنرل پرویز مشرف کے وردی نہ اتارنے کے موقف کو تقویت مل سکتی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد