امریکی تنقید غلط ہے: مشرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے امریکہ کی جانب سے مذہبی آزادیوں کے بارے میں جاری کردہ رپورٹ میں کی گئی تنقید مسترد کردی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کے زمینی حقائق ان تصورات سے خاصے مختلف ہیں جو اس رپورٹ میں پائے جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی کونسل برائے مذاہب کی جانب سے منعقد کردہ ’بین المذاہب عالمی کانفرنس‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پاکستان میں مختلف مذاہب کی اس نوعیت کی یہ پہلی کانفرنس تھی۔ صدر نے کہا کہ امریکہ دنیا کا با اثر طاقتور ملک ہے اس لیے مسلمان ممالک کے تنازعات منصفانہ طور پر حل کرائے۔ان کے مطابق مسلمان ممالک کو سماجی ترقی کی خاطر انتہا پسندی کو ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اصل میں ہم جس بات کی تبلیغ کرتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے اور اس وجہ سے ہی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ اسلام جمہوریت، جدت پسندی اور مذہبی رواداری کا درس دیتا ہے لیکن بدقسمتی سے مغرب میں اسلام کے متعلق غلط تاثر پایا جاتا ہے۔ جس کی وجہ انہوں نے مغرب کا اسلام کی تعلیمات کا مطالعہ نہ کرنا اور اسلام کو درست طور پر نہ سمجھنا بتایا۔ انہوں نے کہا پاکستان میں بعض گروہوں نے لشکر، جیش اور سپاہ بنائے ہیں لیکن وہ واضح کرتے ہیں کہ کسی ایسے لشکر کو وہ نہیں مانتے کیونکہ پاکستان کے صرف اور صرف لشکر افواج پاکستان ہیں۔ صدر نے توہین رسالت کے قانون پر نظرثانی کا اعلان دہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں اقلیتیں محفوظ ہیں اور کسی کے خلاف کسی قانون کا غلط استعمال ہونے نہیں دیا جائے گا۔ مختلف مذاہب کی اس عالمی کانفرنس میں بیرون ممالک میں سے صرف مولانا محمد حنیف جالندھری کے مطابق ناروے سے ایک وفد نے شرکت کی۔البتہ کانفرنس میں مختلف مکتبہ فکر کے علماء کے علاوہ پاکستان میں بسنے والے مختلف مذاہب کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ بعض غیر مسلم مقررین کا دعویٰ تھا کہ تمام مذاہب کی بنیاد انسانیت ہے لہٰذا تمام مذاہب کو انسانیت کا احترام کرنا چاہیے۔ مقررین نے اپنی رائے کسی پر مسلط کرنے سے گریز اور تحمل مزاجی سے دوسروں کا موقف برداشت کرنے کا مادہ پیدا کرنے پر زور دیا۔ کانفرنس نے ایک اعلامیہ بھی منظور کیا جس میں ہر قسم کی دہشت گردی کی مخالفت کرنے، شدت اور انتہا پسندی کو روکنے، روشن خیال اعتدال پسندی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||