’افغان ووٹروں کو ڈرانے کی کوشش‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں اکتوبر کے انتخابات سے پہلے امیدواروں اور ووٹروں کے لئے سکیورٹی کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں اور انہیں بعض عناصر ڈرا ار دھمکا رہے ہیں۔ یہ رپورٹ اقوام متحدہ اور افغانستان انڈیپنڈنٹ ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جمہوریت کے بارے میں معلومات کی کمی کی وجہ سے ووٹروں کو گمراہ کیے جانے کا خدشہ بھی ہے۔ کمیشن کی سربراہ سیما ثمر نے بی بی سی کو بتایا کہ افغانستان میں بہت لوگ خفیہ رائے شمارے کے تحت دستیاب اپنے حقوق کے بارے میں نہیں جانتے ہیں۔ سیما ثمر کا کہنا ہے کہ کچھ طاقتور افراد ووٹروں اور امیدواروں کو ڈرا دھمکا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابات سے پہلے بعض سیاسی جماعتیں اپنے منشور کے بارے میں لوگوں کو اس لئے کچھ نہیں بتارہی ہیں کیونکہ ان کے خلاف تشدد کا خدشہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر انتخابات آزاد اور منصفانہ طور پر کرانا ہے تو ضروری اقدامات کرنے ہونگے۔ سن دو ہزار ایک میں طالبان کے زوال کے بعد افغانستان میں جمہوریت لاگو کرنے کی سمت میں اکتوبر کے صدارتی انتخابات پہلا قدم ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقامی جنگجو سردار کا ان کی برادریوں پر اتنا کنٹرول ہے کہ اس سے ’عوامی رائے کے اظہار‘ کو دھچکا لگ سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض علاقوں میں سیکیورٹی کا خدشہ ہے کیونکہ وہاں ’انتہا پسند گروہ تشدد کے ذریعے سیاسی عمل کو دھچکا پہنچانے کے لئے بضد ہیں۔‘ گزشتہ ہفتے یورپی یونین کے ایک ادارے نے کہا تھا کہ افغانستان میں سکیورٹی کے خدشات کے مدنظر انتخابات کی نگرانی ممکن نہیں ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||