BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 September, 2004, 15:15 GMT 20:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغان باشندوں کا اندراج

کابل
افغانستان میں اکتوبر کے صدراتی انتخابات کے لیے پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کے ووٹوں کے اندراج کا کام آئندہ ماہ کی پہلی تاریخ سے شروع ہو رہا ہے۔

پاکستان میں موجود افغان باشندوں کے اندراج کا کام تین دن میں مکمل کر لیا جائے گا جس کے بعد ووٹر لسٹیں اعتراضات کے لیے آویزاں کر دی جائیں گی۔

پاکستان میں ان پناہ گزینوں کے لیے ووٹنگ کے انتظامات کرنے والی تنظیم انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں موجود تقریبا آٹھ لاکھ افغان پناہ گزین ووٹ دینے کا حق رکھتے ہیں۔

افغانوں کی اکثریت پہلی مرتبہ ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔ ان میں وہ افغان بھی شامل ہیں جوکہ پاکستان اور ایران میں پناہ گزینوں کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے لیے آج کل نو اکتوبر کو ووٹ ڈالنے کے لئے انتظامات ہنگامی بنیادوں پر کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں پولنگ کے انتظامات انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائگریشن یا ’آئی او ایم‘ اسلام آباد اور کابل کی حکومتوں کے تعاون سے کر رہی ہے۔

پاکستان میں پناہ گزینوں کے صحیع تعداد کسی کو معلوم نہیں لیکن آئی او ایم کے علاقائی سربراہ سٹورٹ پاوچر کا کہنا ہے کہ ان کے اندازے کے مطابق یہ تعداد آٹھ لاکھ تک ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کے پاس اپنے اعداد ہیں، یو این ایچ سی آر کے پاس اپنے اور ہر تنظیم کے الگ الگ اندازے ہیں۔ لیکن میرا محتاط اندازہ ہے کہ یہ آٹھ لاکھ تک ہوسکتی ہے۔’

یکم اکتوبر سے تین روز کے لیے سرحد اور بلوچستان میں کھولے جانے والے رجسٹریشن سینٹرز میں آنے والے افغان باشندوں سے پانچ سوالات کے تسلی بخش جواب ملنے پر ان کا بطور ووٹر اندراج کر لیا جائے گا۔ ان سے افغان شہریت کا ثبوت، عمر اور کب پاکستان آئے جیسے سوال پوچھے جائیں گے۔ چار اور پانچ اکتوبر کو ووٹر لسٹیں اعتراضات کے لیے آویزاں کی جائیں گی۔ تاہم شاید سکیورٹی کی وجہ سے ان کو کاپی کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہوگی۔

آئی او ایم کے سٹورٹ پاوچر سے پوچھا کہ یہ پولنگ کتنی غیرجانبدار ہوگی تو ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں انتخابی مہم چلائیں گی لیکن آئی او ایم کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمارا کام صرف پولنگ کو ممکن بنانا ہے اور یقین جانیے اس میں کوئی ہیرا پھیری نہیں ہوگی۔

دوسری جانب عام تاثر ہے کہ صدارت کے پشتون امیدواروں کی پوزیشن پاکستان میں شمالی اتحاد یا دیگر امیدواروں کے مقابلے میں مستحکم ہوگی۔ اس کی ایک وجہ ایک افغان صحافی سمیع یوسفزئی نے بتاتے ہوئے کہا کہ شمالی اتحاد کے یونس قانونی جیسے لوگوں کا موقف ہے کہ ان کے لیے تو پاکستان آنا اور انتخابی مہم چلانا تقریبا ناممکن ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان میں برس ہا برس رہنے اور ذرائع ابلاغ تک بہتر رسائی کی وجہ سے افغان پناہ گزینوں کو انتخابی عمل میں حصہ لینے میں کوئی خاص دقت پیش نہیں آئے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد