افغانستان پر امریکی فضائی حملہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی جہازوں نے مشرقی افغانستان میں ایک گاؤں پر بمباری کی ہے اور مقامی لوگوں کے مطابق کئی افراد اس بمباری کی زد میں آئے ہیں۔ کنٹر صوبے کے گورنر سید فضل اکبر نے بتایا ہے کہ امریکی جہازوں نے شدت پسندوں کی طرف سے ایک چیک پوسٹ پر راکٹ داغے جانے کے بعد پیر کی رات وردیش نامی گاؤں کو بمباری کا نشانہ بنایا۔ گورنر نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ امریکی بمباری سے جانی نقصان ہوا ہے مگر ’ہمیں یہ نہیں معلوم کہ کتنا نقصان ہوا ہے اور نہ یہ پتہ ہے کہ نشانہ بننے والے عام شہری تھے یا دشمن۔‘ ایک رپورٹ کے مطابق چھ عام شہری مارے گئے ہیں لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ان اطلاعات کی تصدیق کی کوشش کر رہی ہے۔ مقامی افغان اہلکاروں کا کہنا ہے کہ مانوگئی ضلع میں جو دارالحکومت کابل سے ایک سو ستر کلومیٹر مشرق میں واقع ہے، ایک چوکی پر راکٹ داغے جانے کے بعد امریکی جنگی جہازوں کی کارروائی شروع ہوئی۔ صوبے کے گورنر نے بی بی سی کی پشتو سروس کو بتایا کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ کیا اس بمباری میں لوگ ہلاک ہوئے ہیں یا نہیں۔ تاہم گورنر فضل اکبر نے کہا کہ چیک پوسٹ پر القاعدہ کے شدت پسندوں یا طالبان نے راکٹ داغے۔ اس علاقے میں افغان رہنما گلبدین حکمت یار کی فوج بھی متحرک ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||