BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 31 August, 2004, 09:24 GMT 14:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پندرہ افغان پناہ گزیں کیمپ بند

افغانستان میں انتخابات کی تیاری
افغانستان میں انتخابات کی تیاری
پاکستان کے صوبہ سرحد میں افغان پناہ گزینوں کے لیے قائم کردہ نو نئے کیمپ بند کردیے گئے ہیں جبکہ صوبہ بلوچستان میں قائم چھ نئے کیمپوں کو پانچ ستمبر تک خالی کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے اسلام آباد میں قائم پناہ گزینوں کے ادارے کے ترجمان جیک ریڈن نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ دونوں صوبوں میں نئے کیمپوں کی بندش اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے افغان پناہ گزیں کی جانب سے ظاہر کردہ تشویش کے بعد عمل میں لایا جا رہا ہے۔

گزشتہ اپریل کے آخر میں پاکستان کے دورے کے وقت مسٹر رود لوبر نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ پناہ گزینوں کے یہ نئے کیمپ افغانستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال ہورہے ہیں اور بعض طالبان حامی لوگ ان کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔

ترجمان کے مطابق یکم ستمبر سے صوبہ سرحد میں بند کیے جانےوالے کیمپوں میں ان کا ادارہ تمام خدمات اور سہولیات ختم کردے گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایک سو ساٹھ کے لگ بھگ صوبے میں قائم پرانے کیمپوں میں بدستور خدمات اور سہولیات کی فراہمی جاری رہے گی۔

دونوں صوبوں میں نئے کیمپ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر رواں سال کے آغاز میں قائم کیے گئے تھے جن میں ایک لاکھ بانوے ہزار افغان پناہ گزینوں کو رکھا گیا تھا۔ پاکستان کا کہنا تھا کہ سرحد کے قریب کیمپوں کا قیام اس لیے کیا گیا تاکہ پناہ گزیں شہروں میں آباد نہ ہوسکیں۔

صوبہ سرحد کے نو نئے کیمپوں میں پینسٹھ ہزار پناہ گزینوں کا اندراج ہوا تھا جس میں سے منگل تیس اگست تک پینتیس ہزار افغانیوں کو واپس وطن بھیج دیا گیا جبکہ باقی رضاکارانہ طور پر نئے کیمپ چھوڑ کر دیگر جگہوں جن میں پرانے کیمپ بھی شامل ہیں، منتقل ہوگئے ہیں۔

بلوچستان کے چھ نئے کیمپوں میں ایک لاکھ ستائیس ہزار پناہ گزینوں کا اندراج ہوا تھا جس میں سے تیس اگست تک تیس ہزار پناہ گزیں واپس جاچکے ہیں اور باقیوں کا اندراج جاری ہے۔ اس صوبے میں مختلف وجوہات کی بنا پر اندراج میں تاخیر کے باعث نئے کیمپ خالی کرنے کی مدت پانچ ستمبر تک بڑھائی گئی ہے۔

ترجمان جیک ریڈن نے مزید بتایا کہ سن دو ہزار دو میں افغان پناہ گزینوں کی رضاکارانہ واپسی کے شروع کردہ پروگرام کے تحت اب تک بائیس لاکھ افغان واپس وطن جاچکے ہیں جبکہ اب بھی دس لاکھ کے قریب افغان پناہ گزیں پاکستان میں موجود ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد