BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 August, 2004, 12:45 GMT 17:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’طالبانائزیشن کا خوف ابھی ہے‘

News image
پاکستان کے صوبہ سرحد میں غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ متحدہ مجلس عمل کی حکومت کے قیام کے بعد سے طالبانائزیشن کا جو خدشہ پیدا ہوا تھا وہ بدستور قائم ہے جسے روکنے کے لیے انہیں اور معاشرے کے دوسرے طبقوں کو آنکھیں کھلی رکھنے کی ضرورت ہے۔

چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت کے آنے کے بعد سے عوامی حلقوں خصوصا غیر سرکاری تنظیموں میں صوبائی حکومت کے مذہبی ایجنڈے سے متعلق خدشات پیدا ہوئے تھے۔

انہی خدشات کا جائزہ لینے اور یہ دیکھنے کے لیے کہ کہیں صوبہ طالبانائزیشن کی جانب تو نہیں بڑھ رہا غیرسرکاری تنظیموں کا عورت فاونڈیشن کے زیر اہتمام پشاور میں ایک ہوٹل میں ایک اجلاس ہوا جس میں درجن بھر سے زائد غیرسرکاری تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

منتظمین کے بقول اگرچہ اجلاس باہمی مشورے کے لئے تھا لیکن اس میں صوبائی حکومت یا دینی جماعتوں کے کسی نمائندے کے شریک نہ ہونے سے کارروائی یکطرفہ ہی نظر آرہی تھی۔

حقوق انسانی اور دیگر شعبوں میں کام کرنے والی تنظیموں کے اہلکاروں نے دل کھول کر طالبانائزیشن سے متعلق اپنے تلخ خدشات کا اظہار کیا۔ بعض مبصرین کے مطابق یہ اجلاس علماء اور صوبائی حکومت کے پوسٹ مارٹم سے کم نہیں تھا۔

عورت فاونڈیشن کے ایمل خان سے صوبائی حکومت کے دو برس بعد اس قسم کا اجلاس منعقد کرنے کی ضرورت کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا سول سوسائٹی کے حلقوں میں گزشتہ چند دنوں سے یہ بحث چل نکلی تھی کہ صوبے میں طالبانائزیشن کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔

’اس صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے اور یہ دیکھنے کے لئے کہ آیا یہ سب کچھ ہو رہا ہے یا نہیں ہم نے یہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ ایسا ہے یا یہ ہماری کم علمی کا نتیجہ ہے۔’

اجلاس میں ایم ایم اے کا نفاذ شریعت کے مقصد سے تیار کئے گئے حسبہ بل، فوج اور افسر شاہی پر بھی کڑی تنقید ہوئی۔ ایک مقرر کے بقول عوامی سطح پر اتنی مزاحمت موجود ہے کہ وہ اپنا اسلام دوسروں پر نافذ نہیں کر سکیں گے۔ انہوں نے علما پر اسلام عام شخص کے لئے مشکل بنانے کا بھی الزام لگایا۔

ایک اور مقرر کو خدشہ تھا کہ جب سابق فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے دور اقتدار کے اثرات دور کرنے میں اتنا عرصہ لگ چکا ہے ایم ایم اے کے اسی طرح کے اقدامات کا بھی یہی نتیجہ نکلے گا۔

شرکاء نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ان خدشات کے خاتمے کے لئے غیرسرکاری تنظیموں نے بھی ایم ایم اے سے رابطے کی اب تک کوئی کوشش نہیں کی ہے۔

اجلاس میں اس قسم کے فورم پر اس طرح کی بحث اور مذاکرے منعقد کئے جاتے رہنے پر اتفاق ہوا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد