’طالبانائزیشن کا خوف ابھی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد میں غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ متحدہ مجلس عمل کی حکومت کے قیام کے بعد سے طالبانائزیشن کا جو خدشہ پیدا ہوا تھا وہ بدستور قائم ہے جسے روکنے کے لیے انہیں اور معاشرے کے دوسرے طبقوں کو آنکھیں کھلی رکھنے کی ضرورت ہے۔ چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت کے آنے کے بعد سے عوامی حلقوں خصوصا غیر سرکاری تنظیموں میں صوبائی حکومت کے مذہبی ایجنڈے سے متعلق خدشات پیدا ہوئے تھے۔ انہی خدشات کا جائزہ لینے اور یہ دیکھنے کے لیے کہ کہیں صوبہ طالبانائزیشن کی جانب تو نہیں بڑھ رہا غیرسرکاری تنظیموں کا عورت فاونڈیشن کے زیر اہتمام پشاور میں ایک ہوٹل میں ایک اجلاس ہوا جس میں درجن بھر سے زائد غیرسرکاری تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ منتظمین کے بقول اگرچہ اجلاس باہمی مشورے کے لئے تھا لیکن اس میں صوبائی حکومت یا دینی جماعتوں کے کسی نمائندے کے شریک نہ ہونے سے کارروائی یکطرفہ ہی نظر آرہی تھی۔ حقوق انسانی اور دیگر شعبوں میں کام کرنے والی تنظیموں کے اہلکاروں نے دل کھول کر طالبانائزیشن سے متعلق اپنے تلخ خدشات کا اظہار کیا۔ بعض مبصرین کے مطابق یہ اجلاس علماء اور صوبائی حکومت کے پوسٹ مارٹم سے کم نہیں تھا۔ عورت فاونڈیشن کے ایمل خان سے صوبائی حکومت کے دو برس بعد اس قسم کا اجلاس منعقد کرنے کی ضرورت کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا سول سوسائٹی کے حلقوں میں گزشتہ چند دنوں سے یہ بحث چل نکلی تھی کہ صوبے میں طالبانائزیشن کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔ ’اس صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے اور یہ دیکھنے کے لئے کہ آیا یہ سب کچھ ہو رہا ہے یا نہیں ہم نے یہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ ایسا ہے یا یہ ہماری کم علمی کا نتیجہ ہے۔’ اجلاس میں ایم ایم اے کا نفاذ شریعت کے مقصد سے تیار کئے گئے حسبہ بل، فوج اور افسر شاہی پر بھی کڑی تنقید ہوئی۔ ایک مقرر کے بقول عوامی سطح پر اتنی مزاحمت موجود ہے کہ وہ اپنا اسلام دوسروں پر نافذ نہیں کر سکیں گے۔ انہوں نے علما پر اسلام عام شخص کے لئے مشکل بنانے کا بھی الزام لگایا۔ ایک اور مقرر کو خدشہ تھا کہ جب سابق فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے دور اقتدار کے اثرات دور کرنے میں اتنا عرصہ لگ چکا ہے ایم ایم اے کے اسی طرح کے اقدامات کا بھی یہی نتیجہ نکلے گا۔ شرکاء نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ان خدشات کے خاتمے کے لئے غیرسرکاری تنظیموں نے بھی ایم ایم اے سے رابطے کی اب تک کوئی کوشش نہیں کی ہے۔ اجلاس میں اس قسم کے فورم پر اس طرح کی بحث اور مذاکرے منعقد کئے جاتے رہنے پر اتفاق ہوا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||