کرم ایجنسی: رفیوجی کیمپ بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد قائم کیا گیا افغان پناہ گزینوں کے لئے ایک کیمپ بند کر دیا گیا ہے۔ باسو نامی اس کیمپ سے اسی سے زائد خاندانوں پر مشتمل پناہ گزینوں کا آخری قافلہ آج صبح اپنے وطن روانہ ہوا ہے۔ آج ٹرکوں کے ذریعے لوٹنے والے اکثر پناہ گزینوں کے چہروں پر ایک نئے مستقبل کی امید ظاہر تھی۔افغان کمیشنریٹ اور یو این ایچ سی آر کے حکام نے انہیں الوداع کہا۔ گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد افغانستان سے آنے والے نئے افغان پناہ گزینوں کے لئے قبائلی علاقوں میں حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ کی مدد سے آٹھ نئے کیمپ بنائے تھے۔ لیکن گزشتہ دنوں پاکستان، عالمی ادارہ خوراک اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیں یو این ایچ سی آر کے درمیان سہ فریقی معاہدے کے تحت یہ تمام کیمپ اس برس یکم ستمبر تک ختم کر دیے جانے ہیں۔ حکام نے ان عارضی کیمپوں کے مکینوں کو اپنے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے بتا دیا تھا کہ انہیں آئندہ ماہ سے خوراک، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ملنے والی امداد ختم کر دی جائے گی۔ البتہ واپس جانے والوں کو معمول سے زیادہ امداد دیے جانے کی پیشکش کی گئی۔ مزید تفصیل یو این ایچ سی آر کے آصف شہزاد نے بتاتے ہوئے کہا کہ یہ اس کیمپ سے ساتواں اور آخری قافلہ تھا جس کے بعد یہ کیمپ بند کر دیا جائے گا۔ گزشتہ جولائی میں کیمپ کی بندش کے اعلان کے بعد سے ساڑھے سات سو سے زائد افغان خاندان واپس جا چکے ہیں۔ دیگر سات کیمپوں سے بھی اب تک ساڑھے پانچ ہزار پناہ گزینوں میں سے چار ہزار سے زائد واپس لوٹ چکے ہیں۔ حکام امید کر رہے ہیں کہ اکتوبر میں صدارتی انتخابات کے پرامن انعقاد کے بعد واپس جانے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ پاکستانی حکام اور امریکیوں کو شک ہے کہ مشتبہ طالبان ان کیمپوں کو عارضی پناہ گاہ کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||