افغانستان سے پاکستانی اہلکار رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی سرحدی فورس ’لیویز، کے چاروں اہلکاروں کو مذاکرات کے بعد افغانستان حکومت نے چھوڑ دیا ہے جو پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ اے پی پی، نے بتایا ہے کہ گزشتہ اتوار کو پاکستان لیویز کے اہلکاروں گل زمان، عبدالرشید، حبیب اللہ اور عنایت اللہ کو افغان سرحدی فورس نے گرفتار کر لیا تھا۔ گرفتار اہلکاروں کو پاکستان اور افغان حکام کے مذاکرات کے بعد جمعہ کے روز بلوچستان کے ضلع چاغی کی ضلعی انتظامیہ کے حوالے کیا گیا۔ چاغی کے ضلعی ناظم میر محمد عارف محمد حسنی نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ پاکستانی فورس کے اہلکاروں کو کِلی عبدالواحد کے پاس سرحد سے تجاوزات ہٹانے پر مامور تھے کہ انہیں افغان سرحدی فورس نے حراست میں لے لیا تھا۔ ناظم کے بقول ان کی سربراہی میں چاغی کے ضلعی افسر قمر مسعود، فرنٹیئر کور کے ونگ کمانڈر ممتاز، لیویز فورس کے زونل کمانڈر محمد خالد کے علاوہ سنجرانی اور محمد حسنی قبائل کے عمائدین کے وفد نے افغانستان کے ہلمند صوبے میں کمانڈر رحمت اللہ سے مذاکرات کیے جس کے بعد گرفتار اہلکاروں کی رہائی عمل میں آئی۔ ضلع چاغی کے رابط افسر قمر مسعود کا کہنا تھا کہ کِلی عبدالواحد کے قریب پاک افغان سرحد پر پاکستانی علاقے میں بعض افغانیوں نے تعمیراتی کام شروع کیا اور منع کرنے کے باوجود بھی وہ باز نہیں آئے ۔ جس کے بعد ان کے بقول پاکستان لیویز نے ان کی تعمیرات گرادی تھیں اور لیویز کے چار اہلکار بھی اس مقام پر تعینات کیے گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||