ہلاکتوں کے بعد گولہ باری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں منگل کی شام ایک حملے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد اب چھ ہو چکی ہے اس سے پہلے یہ تعداد پانچ بتائی گئی تھی اور ان ہلاکتوں کے بعد فوجی ہیلی کاپٹر حرکت میں آئے ہیں جنہوں نے زمینی توپ خانے کی مدد سے شدت پسندوں کےمبینہ ٹھکانوں پر گولہ باری کی ہے۔ جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے سپینکئی رغزئی میں حملہ تقریبا ایک درجن فوجی گاڑیوں پر کیا گیا۔ حکام کے مطابق نقاب پوش حملہ آوروں نے دستی بم اور راکٹ استعمال کیے جس سے پانچ فوجیوں کی ہلاکت کے علاوہ دس زخمی بھی ہوئے ہیں۔ جوابی کارروائی سے دو حملہ آوروں کے ہلاک ہونے کے علاوہ مقامی قبائلیوں کے مطابق عام شہریوں کی ایک گاڑی پر فائرنگ سے تین افراد کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔ اس حملے کے بعد سیکورٹی دستوں نے حملہ آوروں کے ٹھکانوں پر تقریبا دو گھنٹوں تک گولہ باری کی۔ جبکہ آج صبح اس بمباری میں جنگی ہیلی کاپٹروں نے بھی حصہ لیا ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا جب پشاور میں کور کمانڈر لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین نے مقامی صحافیوں کو ایک بریفنگ کے دوران بتایا کہ مارچ سے اب تک کے حملوں میں ڈیڑھ سو سے زائد فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ صفدر حسین کا کہنا تھا کہ فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک سو غیرملکیوں سمیت تقریبا اڑھائی سو مبینہ دہشت گرد ہلاک جبکہ پانچ سو گرفتار کئے گئے ہیں۔ ان کے مطابق علاقے میں جاری فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ان کے اندازے کے مطابق صرف سو کے قریب عسکریت پسند باقی رہ گئے ہیں۔ محسود جنگجو کمانڈر کو جس نے گذشتہ دنوں دو چینی انجینروں کے اغوا کی ذمہ داری قبول کی تھی ایک بیوقوف انسان قرار دیتے ہوئے، کور کمانڈر نے کہا کہ ان کا اگلا ہدف وہ ہوگا۔ بریفنگ میں کورکمانڈر نے اسامہ کی علاقے میں موجودگی کے تاثر کو مسترد کیا البتہ انہوں نے اعتراف کیا کہ ازبکستان کی اسلامی تحریک کے طاہر یلدیش شاید موجود ہوں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||