’فوج غیر انسانی سلوک بند کرے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حقوق انسانی کے غیر سرکاری ادارے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ انہیں جنوبی وزیرستان میں زیر کارروائی علاقے تک آزادانہ طور پر رسائی کی اجازت دی جائے تاکہ وہ وہاں فوج کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرسکیں۔ اس علاقے میں پاکستانی فوج کا آپریشن گزشتہ چھ ماہ سے جاری ہے تاکہ وہاں چھپے ہوئے مبینہ غیر ملکی القاعدہ کے عناصر کو ہلاک یا گرفتار کرسکے۔ فوج کا دعوٰی ہے کہ اس نے گزشتہ ایک سال سے بھی کم کے عرصے میں ایک سو پچاس شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔ حال ہی میں میجر جنرل نیاز خٹک نے وزیرستان کے دورے پر آئے ہوئے صحافیوں کو بتایا تھا کہ فوج شہری ہلاکتوں کو بچانے کے لیے صرف اپنے اہداف پر حملے کررہی ہے۔ تاہم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں سینکڑوں معصوم جانیں ضائع ہورہی ہیں جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں اور چونکہ تمام علاقے سیل کیے ہوئے ہیں اس لیے ان ہلاکتوں کا کوئی ریکارڈ بھی موجود نہیں۔ ادارے کے کونسل ممبر افراسیاب خٹک کا کہنا ہے کہ اس بحران میں انسانیت کے پہلو کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جارہا ہے۔ ’اطلاعات ہیں کہ پچاس ہزار افراد اس بحران میں بے گھر ہوگئے ہیں لیکن حکومت نے ان کی مدد کے لیے کچھ نہیں کیا اور نہ ہی حکومت امدادی اداروں کو وہاں جانے کی اجازت دے رہی ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا ’یہ مسلح تنازعہ ہے مگر حکومت یہ ماننے کو ہی تیار نہیں‘۔ صحافیوں کے بین الاقوامی ادارے رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے صحافیوں کے داخلے پر پابندے کے حکومتی اقدام کی مذمت کی ہے۔ پچھلے دنوں فوج نے صحافیوں کے ایک گروپ کو چند علاقوں کا دورہ کروایا تھا۔ ادارے کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج انہیں کئی مقامات پر لےگئی جہاں وہ قبائیلیوں سے بھی ملے۔ ’قبائلی بظاہر بڑے خوش تھے کہ فوج انہیں شدت پسندوں سے نجات دلا رہی ہے مگر فوجیوں کے ذرا دور جاتے ہی ان قبائیلیوں کا لہجہ بدل گیا اور انہوں نے کہا کہ یہ بہت ظالم فوج ہے‘۔ فوج کے ترجمان میجر جنرک شوکت سلطان کا کہنا ہے کہ ابھی یہ بتانا مشکل ہے کہ آپریشن کب تک جاری رہے گا مگر پھر بھی کارروائی کا بڑا حصہ مکمل ہوچکا ہے۔ لیکن ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اپنے خدشات ہیں۔ افراسیاب خٹک کا کہنا ہے ’حکومت کی باتوں پر یقین کرنا مشکل ہے۔ آپریشن مارچ میں شروع ہوا تھا اور جب کہا گیا تھا کہ یہ ایک ماہ میں مکمل ہوجائے گا۔ ستمبر آچکا ہے اور اب تک اس کارروائی کے اختتام کے کوئی آثار نہیں‘۔ ’اب وقت آگیا ہے کہ بین الاقوامی برادری ان چیزوں کا نوٹس لے۔ صورتحال کو پاکستانی فوج کی مرضی پر نہیں چھوڑدینا چاہیے کیونکہ وہ تو یہ آپریشن دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر جاری رکھے گی۔ لیکن دہشتگردی کے خلاف جنگ حکومت کے لیے کوئی اجازت نامہ نہیں ہے کہ وہ معصوم شہریوں کے ساتھ بدسلوکی کرے اور انہیں قتل کرتی رہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||