وانا آپریشن میں ایک فوجی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے اطلاعات ہیں کہ آج دوپہر کے بعد تین مقامات پر سکیورٹی دستوں اور مشتبہ عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں ایک فوجی کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔ ادھر اسلام آباد سے شکئی آئے ہوئے صحافیوں کو بتایا گیا ہے کہ القاعدہ کے کمپوٹر ماہر عبداللہ خالد محمد الحاج الزرقاوی کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں سیکورٹی دستوں اور مشتبہ عسکریت پسندوں سے جھڑپوں کا نیا سلسلہ آج دوپہر کے بعد شروع ہوا۔ یہ جھڑپیں تین مقامات پر ہو رہی ہیں جن میں کاروان مانزہ اور آسمان مانزہ بھی شامل ہیں۔ وانا میں ذرائع کے مطابق چھٹی ناردن لائٹ انفنٹری کے ایک سپاہی غلام محمد ہلاک ہوئے ہیں۔ عسکریت پسندوں کے نقصانات کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا۔ ادھر آج قومی اور بین القوامی ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو فوجی حکام نے شکئی کا دورہ کرایا اور صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی۔ جنوبی وزیرستان میں فوج کے کمانڈر جنرل نیاز خٹک نے بتایا کہ اس وقت آٹھ مختلف مقامات پر غیر ملکی عناصر اور ان کے مقامی حامیوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ اب تک کی جھڑپوں میں ڈیڑھ سو ایسے افراد ہلاک اور سو گرفتار کیے گئے ہیں۔ حراست میں لیے جانے والوں میں کوئی عرب باشندہ نہیں۔ اس موقع پر فوج کے ترجمان محجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا تھا کہ انہیں اسامہ یا ایمن الظواہری کی موجودگی کے شواہد نہیں ملے ہیں البتہ القاعدہ کے اردن سے تعلق رکھنے والے ایک کمپوٹر ماہر عبداللہ خالد محمد الحاج الزرقاوی کا پاسپورٹ، کمپوٹر، سی ڈیز، ڈائری اور خطوط ملے ہیں۔ یہ شخص آج کل عراق میں مزاحمت کاروں کے شانہ بشانہ لڑنے والے مصیب الزرقاوی کے ساتھ افغانستان میں رہ چکا ہے۔ اس کے علاوہ حکام کے بقول گزشتہ آپریشن میں زخمی ہونے والے طاہر یلدش بھی اس علاقے میں موجود ہیں۔ علاقے سے ایک اور دلچسپ دریافت بھارت کی مہر لگی چاول اور آلو کی بوریاں ہیں۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یہ بنیادی طور پر افغانستان کو امداد میں ملی تھی لیکن ان کی اس علاقے میں موجودگی معنی خیز ضرور ہے اور اس کی تحقیقات کی جائیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||