وانا: صحافیوں کو روک دیا گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک جانب تو حکومت نے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں صحافیوں کے داخلے پر سے پابندی اٹھانے کا اعلان کیا ہے لیکن دوسری طرف آج مقامی صحافیوں کے ایک وفد کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان سے صحافیوں کا ایک وفد آج جنگجو کمانڈر عبداللہ محسود کی دعوت پر ان سے ملاقات کے لئے جنوبی وزیرستان جانا چاہتا تھا کہ اسے جنڈولہ کے مقام پر روک کر واپس کر دیا گیا۔ خیال تھا کہ اس ملاقات کے دوران ایک یرغمال بنائے جانے والے مبینہ فوجی محمد شعبان کو رہا کیا جانا تھا۔ اس وفد میں شامل بزرگ قبائلی صحافی سیلاب محسود بھی شامل تھے جنہوں نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ حکومت کے بقول ان کی دوغلی پالیسی کی مذمت کی۔’ایک جانب حکومت کا کہنا ہے کہ ذرائع ابلاغ کو جنوبی وزیرستان کا دورہ کرنے کی اجازت ہے اور دوسری طرف وہ اس طرح سے قدغن لگا رہی ہے۔‘ چند روز قبل اسی قسم کی صورتحال سے دوچار ہونے والے پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسیشن کی سہ رکنی تحقیقاتی کمیٹی نےمنگل کو پانچ صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ بار کی مشترکہ مجلس عاملہ کے سامنے پیش کی۔ ٹانک شہر میں کی جانے والی تحقیقات پر مبنی رپورٹ کے مطابق ٹانک شہر اور مضافات میں فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں نقل مکانی پر مجبور ہزاروں قبائلی بے سروسامانی کی حالت میں پڑے ہیں۔ ان بے گھر افراد کی امداد کے لئے کوئی سرکاری یا غیرسرکاری سطح پر کوشش نہیں کی گئی ہے۔ رپورٹ میں حکومت کے غیرملکیوں کو ہلاک کرنے کے دعوؤں کو بھی غلط قرار دیا گیا ہے۔ ادھر وکلاء کی ایک تحقیقاتی ٹیم نے جسے گزشتہ دنوں وانا نہیں جانے دیا گیا تھا اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ فوجی آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں قبائلی ٹانک شہر اور اس کے مضافات میں بے یارو مددگار پڑے ہیں۔ بعد میں پشاور ہائی کورٹ بار نے وانا آپریشن فوار بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||