وانا: شدت پسندوں سے پاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان فوج کے مطابق جنوبی وزیرستان ایجنسی کو اب غیر ملکی شدت پسندوں سے پاک کر دیا گیا ہے اور باقی ماندہ کو گھیرے میں لیا جا چکا ہے پاکستان فوج نے ملکی اور غیر ملکی صحافیوں کے ایک وفد کو جنوبی وزیرستان کا دورہ کرایا جس میں پاکستان میں بی بی سی کے نمائندے پال اینڈرسن بھی شامل تھے۔ پاکستان فوج کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ کہ علاقے کو غیر ملکی دہشت گردوں سے پاک کر دیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق غیر ملکی شدت پسندوں میں اکثریت کا تعلق چیچنیا اور وسطی ایشیا سے تھا۔ فوج کے ترجمان کے مطابق بچ جانے والے مبینہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا پتہ چلایا جا چکا ہے اور اب ان کو جلد ہی ختم کر دیا جائے گا۔ پچھلے دس دنوں میں جنوبی وزیرستان میں پاکستان فوج اور غیر ملکی شدت پسندوں اور ان کے مقامی حمایتوں کے درمیان جنگ نے شدت اختیار کر لی ہے جس میں بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔ فوجی ترجمان کے مطابق پچھلے دس دنوں میں ستر غیر ملکی شدت پسند اور ان کے مقامی حامی ہلاک ہو چکے ہیں۔پاک فوج کے ترجمان کے مطابق ’کئی‘ فوجی بھی اس لڑائی میں ہلاک ہوئے ہیں۔ مقامی فوجی کمانڈر نے صحافیوں کو بتایاکہ کارروائی کے دوران کئی تربیتی کیمپوں کو تباہ کیا جا چکا ہے۔ صحافیوں کے اس وفد کو افغان بارڈر سے تیس کلو میٹر دور کے فاصلے پر واقع شکئی بھی لے جایا گیا جہاں شدت پسندوں کے کیمپوں پر ہوائی حملے بھی کیے گئے۔ شکئی آپریشن کے دوران ساٹھ غیر ملکی شدت پسند اور بیس پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔فوجی ترجمان کے مطابق شکئی میں فوجی آپریشن بہت اہم تھا۔ فوجی ترجمان نے صحافیوں کو وہ ہتھیار ا ور مواصلاتی آلات دکھائے جو انہوں نے جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے دوران قبضے میں لیے تھے۔ ان ہتھیاروں میں راکٹ لانچر، گرینیڈ، اے کے فورٹی سیون رائفل اور سیٹیلائٹ کی پوزیشن معلوم کرنے والے آلات، ہاتھ سے بنائے گئے نقشے اور کمپیوٹر کی مدد سے کام کرنے والے ٹیلی سکوپ بھی شامل ہیں۔ فوجی ترجمان کے مطابق آپریشن کے دوران ملنے والے ہتھیاروں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ القاعدہ کتنی جدید بنیادوں پر استوار ا ور باوسائل تنظم ہے۔ پاکستان فوجی ترجمان کے مطابق علاقے میں فوجی آپریشن کی وجہ سے اب القاعدہ علاقے سے بھاگنے پر مجبور ہے۔ مقامی فوجی کمانڈر سے جب اسامہ بن لادن اور امین الظواہری کے علاقے میں موجودگی کے بارے میں دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس کوئی ایسی اطلاع نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||