BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 October, 2004, 12:10 GMT 17:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا: جنگ بندی پھر ٹوٹ گئی

جنگجو وانا میں جنگ بندی ختم ہونے کا ذمہ دار سکیورٹی فورسز کو قرار دے رہے ہیں
جنگجو وانا میں جنگ بندی ختم ہونے کا ذمہ دار سکیورٹی فورسز کو قرار دے رہے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی دستوں پر غیر اعلانیہ جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے مقامی جنگجوؤں نے جنگ بندی کےمعاہدے کے ٹوٹ جانے کا اعلان کیا ہے۔

مقامی جنگجوؤں کے ایک کمانڈر عبداللہ محسود نے بی بی سی کو بتایا کہ پانچ اکتوبر کو جنگ بندی پر عمل درآمد شروع ہوا تھا لیکن فوج اس وقت سے اب تک پیش قدمی کر رہی ہے اور نئے مورچوں کی تعمیر کی جاری رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ ہم نے اس کی شکایت مصالحتی کمیٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی مولانا معراج الدین سے بھی کی لیکن حکومت نے ہماری ایک نہ سنی۔‘

جمعرات کے روز عصر کے وقت کاروان مانزہ اور اردگرد کے علاقوں میں سکیورٹی دستوں اور القاعدہ کے مشتبہ حامیوں کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی۔ تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

عبداللہ نے الزام لگایا کہ سیکورٹی دستوں نے پیش قدمی سے قبل گولہ باری کی جس سے یہ معاہدہ ٹوٹ گیا۔ ’حکومت نے جنگ بندی ختم کر دی ہے۔ وہ آگے آئے، انہوں نے مورچے بنائے، ہم صرف اپنا دفاع کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت علاقے میں جاری بقول ان کے ظلم بند نہیں کرتی ان کی جنگ جاری رہے گی۔

ایک سوال کے جواب میں کہ فوج پر حملے تو جنگجو کر رہے ہیں پھر اسے وہ اپنا دفاع کیسے کہہ سکتے ہیں تو عبداللہ نے کہا کہ ان کے علاقے میں ایک لاکھ فوج کی موجودگی، بلاجواز بمباری اور گھروں کو مسمار کرنا آخر کیا ہے۔

جنگ بندی کے خاتمے سے متعلق حکومت کا کوئی ردعمل ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔

ادھر مقامی جنگجوؤں کے پاس گزشتہ کئی ہفتوں سے یرغمال مبینہ فوجی محمد شعبان نے ایک مرتبہ پھر حکومت اور فوج سے اسے رہائی دلانے کی اپیل کی ہے۔ ’میرے گھر والے غریب ہیں پریشان ہیں’۔

جنگجوؤں کی جانب سے اسے ذرائع ابلاغ کے سامنے رہا کئے جانے کی پیشکش کے باوجود حکومت نے صحافیوں کو وزیرستان داخل نہیں ہونے دیا۔

اس نے بتایا کہ اس کا حراست کے دوران گھر والوں سے فون پر رابطہ ہوا ہے اور اس نے انہیں بھی حکومت سے اپیل کرنے کے لیے کہا ہے۔ اس نے اب تک جنگجوؤں کے رویے سے متعلق کوئی شکایت نہیں کی۔

حکومت اور پاکستان فوج نے اس فوجی کے اغوا کے بارے میں اب تک چپ سادھی ہوئی ہے اور کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد