وزیرستان: 1 فوجی ہلاک 7 زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح ایک فوجی گاڑی کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے سے ایک جوان ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ مشتبہ عسکریت پسندوں اور حکومت کی جانب سے دس روزہ جنگ بندی پر رضامندی کے چند گھنٹوں بعد پیش آیا ہے۔ مقامی جنگجوؤں نے پیر کی رات سے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ پہلے سے ہی جنگ بندی پر عمل کر رہی ہے اور صرف حملے کی صورت میں جوابی کارروائیاں کر رہی ہے۔ تاہم مقامی جنگجوؤں کے ایک کمانڈر عبداللہ محسود نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ یہ حملہ انہوں نے نہیں کیا بلکہ امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے والے عناصر کی کارستانی ہے۔ جنگ بندی کا مقصد مذاکرات کے عمل کے ذریعے علاقے میں روپوش القاعدہ کے مشتبہ غیرملکی عناصر کے مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے۔ عبداللہ محسود نے جنگ بندی کی کامیابی کے لئے چند شرائط رکھیں ہیں۔ ان میں فوج کو نئے مورچے تیار کرنے سے منع کرنا، مزید تازہ فوجی علاقے میں نہ بھیجنا اور کسی قسم کی پیش قدمی نہ کرنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی انتظامیہ کو بقول عبداللہ اپنے گھناؤنے کردار سے باز رہنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ حالیہ واقعہ ڈیرہ اسماعیل خان سے وانا جا رہے ایک فوجی قافلے کی گاڑی کو جنڈولہ کے قریب ایف آر ٹانک کے علاقے میں پیش آیا۔ بعد میں علاقے کو فوجیوں نے گھیرے میں لے لیا اور جنڈولہ بازار بھی بند کر دیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||