وزیرستان جھڑپیں، چار جنگجو ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی دستوں اور مشتبہ عسکریت پسندوں کے درمیان کل رات بھر مختلف مقامات پر شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اس لڑائی میں چار جنگجو ہلاک جبکہ پانچ فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ لڑائی کی تازہ لہر کل رات گئے نامعلوم افراد کی جانب سے جنوبی وزیرستان کے مختلف مقامات پر راکٹوں، مارٹر گولوں اور چھوٹے اسلحے کے حملوں سے شروع ہوئی۔ مقامی آبادی کے مطابق جھڑپیں کنی گُرم، آسمان مانزہ، کاروان مانزہ، مکین، اپر شکئی، بش غر اور لدھا کے علاقوں میں ہوئیں۔ لدھا میں سکاؤٹس کیمپ کو درجنوں راکٹوں اور مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا گیا۔ کئی راکٹ قریبی ہسپتال اور سکول میں بھی گرے تاہم ان سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ آزاد ذرائع اور مقامی آبادی کے مطابق اس لڑائی میں ایک فوجی گاڑی کو بارودی سرنگ سے نقصان پہنچنے کے علاوہ چند فوجیوں کو جانی نقصان بھی پہنچا ہے البتہ فوج کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں صرف پانچ فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ فوج کے بقول لڑائی میں چار شرپسندوں کو ہلاک جبکہ کئی کو زخمی کیا گیا ہے۔ بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ مشتبہ عسکریت پسند اپنے دو ساتھیوں کی لاشیں گھسیٹ کر لیجانے میں کامیاب رہے جبکہ مزید دو کی لاشیں سکیورٹی اہلکاروں نے قبضے میں لے لی ہیں۔ فوج کے مطابق یہ دو غیرملکی معلوم ہوتے ہیں۔ ادھر فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ مصالحتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کل رات مقامی رکن قومی اسمبلی مولانا معراج الدین اور اعلٰی فوجی اہلکاروں نے خفیہ مقام پر مزاحمت کاروں سے مذاکرات کئے ہیں جن میں مقامی جنگجوؤں کو بظاہر جنگ بندی پر راضی کر لیا گیا ہے۔ دس روز کے لئے کی جانے والی اس فائر بندی پر توقع ہے کہ منگل سے عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||