BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 October, 2004, 17:01 GMT 22:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا: سکرپٹ وہی کردار بدل رہے ہیں

News image
افغانستان کے ساتھ سرحد پر واقع قبائلی علاقے میں پچھلے کئی ماہ سے جھڑپوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ یہ معاملہ کب تک چلے گا واضح نہیں۔

جنوبی وزیرستان میں جاری اس جنگ میں کردار وہی ہیں صرف افراد تبدیل ہو رہے ہیں، جنگی صورتحال وہی ہے صرف علاقے تبدیل ہو رہے ہیں اور عام قبائلیوں کی مشکلات وہی ہیں صرف ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جھڑپوں کی نوعیت بھی بدستور وہی ہے جو اس سال مارچ میں تھی۔ فوجی قافلوں اور تنصیبات پر راکٹوں اور مارٹر بموں سے حملے بھی ہو رہے ہیں جن کا جواب توپ خانے اور فضائی حملوں کی صورت میں دیا جاتا ہے۔

اس صورتحال میں ہلاکتوں کا بھی سکرپٹ ایک ہی ہے۔ کبھی فوجی اور کبھی شدت پسند۔ لیکن اکثر عام شہری اس لڑائی کا ایندھن بن رہے ہیں۔ اگر یہ قبائلی لوگ خوش قسمتی کی وجہ سے موت کو دھوکہ دے بھی دیں تو غیریقینی صورتحال، کاروباری مندا اور دیگر مشکلات انہیں گھیر لیتی ہیں۔

پہلے اس عذاب سے احمدزئی وزیر قبیلے کے بےگناہ لوگ گزرتے رہے اور اب محسود عوام اس کا شکار ہیں۔ اس کے بعد نمبر کس کا ہوگا معلوم نہیں۔ لیکن موجودہ حالات کو ذہن میں رکھا جائے تو مستقبل قریب میں امید کی کوئی کرن پھوٹتی نظر نہیں آتی۔

جنگی میدان ہے کہ کبھی اتنا گرم کہ باقاعدہ خانہ جنگی کا شبہ ہونے لگتا ہے اور کبھی اتنا سست کہ لگتا ہے کہ معاملہ ختم ہو گیا اور سب کچھ ٹھیک ہو چکا۔حالات یوں ہی سرد گرم ہوتے رہتے ہیں۔

ایک جانب فوجی اور حکومتی اہلکار کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی اور فوجی محاذ پر پیش رفت ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق احمدزئی وزیر علاقہ کو القاعدہ عناصر سے پاک کرنا ایک بڑی کامیابی ہے۔ غیرملکی جنگجو اب افغانستان یا محسود علاقے میں منتقل ہوگئے ہیں۔

حکومت اپنی کارروائیوں کی کامیابی کا ایک ثبوت علاقے میں غیرملکی شدت پسندوں کی تعداد پانچ سو سے کم ہوکر صرف ایک سو تک آ جانا بھی بتاتی ہے۔

لیکن ان دعوں کے نتیجے میں یہ سوالات اُبھرتے ہیں کہ کیا غیرملکی عناصر مستقل طور پر دیگر علاقوں کو کوچ کر چکے ہیں یا پھر دوبارہ سازگار ماحول پا کر واپس بھی لوٹ سکتے ہیں۔

دوسرا اگر تقریباً تین برسوں میں غیرملکی شدت پسندوں کی تعداد میں کمی چار سو ہے تو پھر سرکاری اندازوں کے مطابق باقی ماندہ ایک سو جنگجوؤں کے خاتمے کے لئے کم از کم مزید ایک سال درکار ہوسکتا ہے۔

ویسے بھی پاکستانی فوج یقیناً ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ وہ عوامی ردعمل کے خوف سے بڑے پیمانے پر کارروائی بھی نہیں کرسکتی۔ جبکہ وہ خود گوریلا کارروائیوں کا شکار ہے۔

اس صورتحال کا مقابلہ فوج کو تحمل سے ہی کرنا پڑے گا۔ لیکن ایک اور اہم پہلو جو شاید اب تک کی کارروائیوں میں زیادہ موثر نظر نہیں آیا وہ اس کا خفیہ معلومات اکٹھی کرنے کا نظام ہے۔ بہتر انٹیلیجنس اور ٹارگیٹڈ مشن ہی ان کا اہم ہتھیار ثابت ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب جنگجوؤں کے ایک رہنما اور نیک محمد کے جانشین حاجی عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے حکومت سے ایک ماہ تک چلنے والے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں جس کے بعد انہوں نے جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔

اس سے واضح ہے کہ فریقین کے وقتی کامیابیوں کے داعوؤں کے باوجود جنوبی وزیرستان ایک طویل عرصے تک نہ صرف قومی بلکہ بین الا قوامی ذرائع ابلاغ میں شہ سرخیوں میں رہے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد