وزیرستان: کئی مقامات پر لڑائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سپینکئی رغزئی میں سکیورٹی دستوں اور مبینہ شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جمعرات کو رات بھر جاری رہا۔ ادھر مکین کے علاقے ویدون میں ایک ریمورٹ کنٹرول بم دھماکے میں نیم فوجی ملیشیا کے چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں ایک عورت اور دو بچوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ مقامی افراد کے مطابق یہ عورتیں اور بچے ایک کاریز سے پانی لیجا رہے تھے کہ راستے میں فائرنگ میں پھنس گئے۔ البتہ ان ہلاکتوں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ دریں اثناء تین روز سے سکیورٹی دستوں اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ سپینکئی رغزئی کے علاقے میں سلسلہ کل رات بھر جاری رہا۔ البتہ کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ کاروان مانزہ کے علاقے میں بھی جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں ایک فوجی کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ زخمی کو ہیلی کاپڑ کے ذریعے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ سپینکئی رغزئی مقامی جنگجو عبداللہ محسود کا علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ مقامی انتظامیہ کے کہنے پر مقامی عمائدین کا ایک وفد علاقے کے لوگوں کو فوج کی جانب سے گھر گھر تلاشی پر آمادہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ جرگے کی مصروفیات کی وجہ سے علاقے میں عارضی جنگ بندی پر عمل کیا جارہا ہے۔ حکومت نے غیرملکی اور مقامی جنگجوؤں کو ہتھیار ڈالنے کا حکم بھی دیا ہے۔ سپینکئی رغزئی میں کل رات نصف شب کے بعد سے صبح چھ بجے تک گولہ باری جاری رہی۔ اردگرد کے پہاڑی علاقوں پر بھی فوج نے قبضہ جمایا ہوا ہے۔ علاقے پر جنگی ہیلی کاپٹروں کی پروازیں بھی جاری ہیں البتہ وہ لڑائی میں حصہ نہیں لے رہے۔ علاقے کو جانے والے تمام راستے بدستور بند ہیں۔ لڑائی کی وجہ سے مقامی دیہات کے لوگ پیدل نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ یہ لوگ بڑی تعداد میں قریبی علاقے جنڈولہ پہنچ رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||