حکومت اور مطلوب افراد میں معاہدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکومت اور القاعدہ کی مدد کے الزام میں مطلوب پانچ افراد کے درمیان پرامن رہنے کا ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ صدر مقام وانا میں آج مقامی انتظامیہ کے ساتھ ایک جرگے میں احمد زئی وزیر قبائل کی اہم شاخ یارگل خیل، ملک خیل اور دیگر قبائل نے بھی حکومت کو القاعدہ کی مدد کے الزام میں مطلوب پانچ افراد کی دس دس لاکھ روپے کی ضمانت دینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ معاہدے کے تحت ان انتہائی مطلوب پانچ افراد نے جن میں محمد شریف، حاجی عمر، مولوی عبدالعزیز، کمانڈر جاوید اور مولوی عباس شامل ہیں حکومت کو کسی حملے میں ملوث نہ ہونے اور القاعدہ کے غیرملکی عناصر کی مدد نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ جواب میں حکومت انہیں گرفتار نہیں کرے گی۔ چند لوگ اسے ضمانت قبل از گرفتاری جیسا کوئی معاہدہ قرار دے رہے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ افراد جمعے کے روز انتظامیہ کے سامنے پیش ہونگے۔ ان افراد نے تقریباً اسی قسم کا ایک معاہدہ اس سال اپریل میں حکومت کے ساتھ شکئی کے مقام پر نیک محمد کی سرکردگی میں کیا تھا جو کہ بعد میں فریقین کے الزامات کے تبادلے کے بعد ٹوٹ گیا تھا۔ اس قسم کے معاہدے حکومت احمدزئی وزیر قبائل کی دیگر شاخوں کے ساتھ بھی کر چکی ہے۔ ادھر فوجی حکام کے بقول ڈیلہ خولہ کے مقام پر مشتبہ عسکریت پسندوں سے ایک جھڑپ میں چار افراد گرفتار کئے گئے ہیں البتہ ان کی شناخت نہیں کی جا سکی ہے۔ حکام کے مطابق یہ افراد ایک زخمی ساتھی کو مسافر گاڑی میں لیجا رہے تھے کہ سیکورٹی دستوں کے ساتھ الجھ گئے۔ اگرچہ محسود علاقے میں حالات بدستور کشیدہ ہیں لیکن احمد زئی وزیر قبائل سے اس معاہدے کو حکام ایک اہم کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||