جنوبی وزیرستان: صحافت کی چاندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں نے جدید ٹیکنالوجی سے بے بہرہ، بے ہنگم ٹریفک والی سڑکوں اور دیہاتی انداز میں بنی دوکانوں کے شہر وانا میں خوبصورت صاف ستھرے شیشوں اور سرخ قالینوں کے دفاتر میں صحافیوں کو دیکھا جو ہر دو تین منٹ بعد ٹیلی فون پر عالمی ذرائع ابلاغ کو قبائیلی علاقے میں فوجی آپریشن کے بارے میں پل پل کی خبریں دے رہے تھے۔ ان صحافیوں کے دفاتر میں ڈیجٹل کیمرے، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر نصب نظر آئے۔ جنوبی وزیرستان کے صحافی دنیا کو ہر لمحہ خبروں سے نواز رہے ہیں جبکہ دنیا ان کو ڈالروں ، پاؤنڈز اور اور پاکستانی کرنسی کی صورت میں اچھے معاوضے سے نواز رہے ہیں۔ میں نے ایسی ہی صورتحال افغانستان پر امریکی بمباری کے دوران کوئٹہ، پشاور اور اسلام اباد کے صحافیوں کی دیکھی تھی جو اپنی ماؤں کی دن دگنی رات چوگنی ترقی کی دعاؤں کی قبولیت کی تصویر بنے ہوئے تھے۔ جو صحافی پطرس بخاری کے مرزا کی بائیسکل پر سوار تھے انہوں نے چائینا بائسکل کے پیڈل گھمانے شروع کیےاور جو آدھا سفر موٹر سائیکل پر اور بقایا انکو گھسیٹتے ہوئے طے کرتے تھے انہوں نے چمکیلی گاڑی کا ایکسلریٹر دبایا۔ جو بے گھر تھا وہ صاحب مکان بنا جو بقول شاعر مکان میں رہتا تھا اس نے گھر بسا لیا۔ جنوبی وزیرستان کے صحافی علاقے میں طالبان اور مقامی جنگجوؤں کے خلاف پاکستانی فوج کے آپریشن سے بھی اسی طری مستفید ہورہے ہیں۔ ایک عالمی خبر رساں ادارے کے لیے کام کرنے والے احسان اللہ وزیر صحافیوں کی حالیہ حالت پر بہت خوش نظر تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ آپریشن سے قبل جنوبی وزیرستان میں چند ہی صحافی تھے جو ملک کے نام نہاد اردو اخبارات کےلیے بلامعاوضہ ایک آدھ رپورٹ لفافے میں بند کرکے ڈاک کے ذریعے سے بھیجا کرتے تھے جو دس بارہ دن کے بعد پشاور یا اسلام آباد میں اخبارات کے دفاتر کو پہنچ جاتے تھے۔ احسان اللہ وزیر کے بقول جنوبی وزیرستان میں صحافیوں کی تعداد چالیس تک پہنچ چکی ہے جو عالمی خبر رساں اداروں بی بی سی ، وائیس آف امریکہ، جاپان ٹیلی وژن اور ملکی اخبارات کو پل پل کی تازہ خبریں دیتے ہیں۔ ان صحافیوں کو فیکس ، کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ، ڈیجیٹل ویڈیو کیمرے ، سٹلائیٹ فون فراہم کئے گئے اس کے علاوہ ان کو سفری خرچ بھی دیا جاتا ہے۔ ان صحافیوں کی محفل میں بیٹھے صحافی شازالدین نے بڑے فخریہ انداز میں کہا کہ اب وہ دن گئے جب مقامی صحافی معاشی مجبوریوں کی وجہ سے ہر مہینے پولیٹکل ایجنٹ کے دفتر کے باہر فقط دو ہزار روپے کی وصولی کے لیے گھنٹوں انتظار کرتا تھا اور ان دو ہزار روپوں کے بدلے صحافی کو یا تو کچھ لکھنا نہیں ہوتا تھا اور اگر لکھتا بھی تو سرکار کے لیے تعریفی کلمات کا مینار بنا دیتا تھا۔ شاز الدین کا کہنا ہے کہ اب تو جنوبی وزیرستان کے صحافی پولیٹکل ایجنٹ کی تنخواہ سے بھی تین گنا زیادہ کماتے ہیں۔ بقول انکے وانا میں ایسے صحافی بھی ہیں جو ماہانہ ایک لاکھ روپے کے قریب کماتے ہیں۔ ایک اور صحافی ظفر وزیر نے بتایا کہ پاکستانی فوج کے آپریشن کے دوران جنوبی وزیرستان میں صحافیوں کا پیشہ ورانہ معیار بھی بڑھ گیا اور وہ اب عالمی تناظر میں ایک مخصوص علاقے کے بارے میں رپورٹنگ کا گر سمجھ گئے ہیں۔ بقول ظفر وزیر کے تاریخ میں پہلی بار وانا کے صحافیوں کو عالمی خبر رساں اداروں کی طرف سے ڈیرہ اسمٰعیل خان ، پشاور، اسلام آباد اور کراچی میں خصوصی طورپر تربیت دی گئی۔ لیکن ایک عالمی خبر رساں ادارے کے لیے کام کرنے والے ایک اور صحافی مجیب الرحمٰان وزیر نے اپنی مشکلات بتاتے ہوئے کہا کہ آپریشن کے دوران حکومت نے کئی صحافیوں کو پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہوئےگرفتار کیا۔ مجیب الرحمٰن نے کہا کہ انہیں رواں سال کے مارچ میں رپورٹنگ کرتے ہوئے گرفتار کیاگیا اور ان کا کیمرہ بھی چھین لیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں دو تین دن تک حوالات میں انکے ہاتھ پاؤں رسی سے باندھ کر رکھا گیا اور ایک کلومیٹر تک دوڑایا گیا۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے گزشتہ دنوں صحافیوں سے کہا تھا کہ وہ جنوبی وزیرستان میں القاعدہ، طالبان اور مقامی جنگجوؤں کو ہیرو بناکر پیش نہ کریں۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر صحافی اپنی اس روش کو برقرار رکھتے ہیں تو انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت انکے خلاف کاروائی ہوسکتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وزیر اطلاعات کا اشارہ جنوبی وزیرستان کے صحافیوں کی طرف تھا جنہوں نے حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود آپریشن کے متعلق تمام خبریں اور تصاویر ذرائع ابلاغ تک پہنچا دیں۔ مگر مجیب الرحمٰن گلہ کرتے ہیں کہ حکومت نے فوج اور فرنٹیر کور کو ہدایت کی کہ صحافیوں کو جائے وقوعہ پر نہ لے جایا جائے اور نہ ہی انکو کسی قسم کی معلومات فراہم کی جائیں۔ مجیب الرحمٰان کے بقول ایسے حالت میں کیسے سرکار کی منشاء کے مطابق رپورٹنگ ہوسکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||