| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل مشرف:صحافتی پابندیاں بڑھیں
انسانی حقوق کے عالمی ادارے ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں پاکستان کے صحافیوں کے خلاف اقدامات میں اضافہ ہوا اور رپورٹ میں دو صحافیوں کی مثال دیتے ہوئے ان کے ساتھ کی جانے والی مبینہ زیادتی پر تنقید کی گئی ہے۔ منگل کو جاری ہونے والی ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں ایک ذکر لاہور سے تعلق رکھنے والے صحافی عامر میر کا ہے جو آجکل کراچی سے نکلنے والے ماہنامہ ہیرالڈ کے لیے کام کررہے ہیں اور اس سے پہلے لاہور کے انگریزی ہفت روزہ انڈیپینڈنٹ کے مدیر تھے۔ عید سے کچھ پہلے عامر میر کی گاڑی کو لاہور میں ان کے گھر کے باہر جلایا گیا تو انہوں نے اس کا الزام حکومتی ادارہ آئی ایس آئی پر لگایا اور کہا تھا کہ آئی ایس آئی نے ان کو دھمکیاں دے تھیں۔ اس واقعہ سے کچھ عرصہ قبل جنرل پرویز مشرف نے قومی اخبارات کے مدیروں کے ساتھ ایک ملاقات میں عامر میر کا نام لے کر کہا تھا کہ وہ ان کے سخت خلاف لکھتےہیں اور اپنی بات لکھنے سے پہلے اس کی تحقیق نہیں کرتے۔ حکومت نے عامر میر کی گاڑی کے جلا ئےجانے کے معاملہ پر اب تک خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور عامر میر کے الزامات کا جواب نہیں دیا۔ پاکستان میں جب بھی پاکستان میں کسی حکومت پر آزادی صحافت پر پابندیوں کے حوالہ سے تنقید ہوتی ہے تو حکومت اسے بے بنیاد قرار دے کر اپنے کارنامے بیان کرنے لگتی ہے۔
اسلام آباد میں قومی پریس سے وابستہ ایک غیرسرکاری تنظیم انٹر نیوز ہر سال تین مئی کو دنیا بھر میں آزادئ صحافت کے حوالے سے منائے جانے والے دن کے موقع پر پاکستان میں صحافت سے متعلق سال بھر تک ہونے والے واقعات کی رپورٹ جاری کرتی ہے۔ اس ادارہ کے سربراہ عدنان رحمت کا کہنا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں اگر صحافیوں اور اخبارات کے خلاف ہونے والے واقعات کی تعداد میں اضافہ نہ بھی ہوا ہو تب بھی ان واقعات میں شدت ضرو آئی ہے۔ ان کا کہنا ہے حکومتی اداروں نے صحافیوں کی مخالفت کو دبانے کے لیے ان کے لیے کام کو دشوار بنایا ہے اور بالواسطہ طور پر ان کی آزادی کو کم کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک اہم بات یہ ہے کہ سن دو ہزار دو کے عام انتخابات سے پہلے فوجی حکومت نے چار نئے قوانین پر مشتمل آرڈیننس جاری کیے اور ان سب کا تعلق آزادئ صحافت سے تھا۔ ایک نیا قانون ہتک عزت کا بنایا گیا جس میں وہ قواعد و ضوابط بنائے گئے کہ کس طرح کوئی متاثرہ شخص کسی صحافی کے خلاف عدالت سے رجوع کرسکتا ہے۔
فوجی حکومت نے اطلاعات تک رسائی کے لیے بھی ایک قانون جاری کیا جس میں اتنی شرائط عائد کردی گئیں کہ صحافیوں کو پہلے جن اطلاعات تک رسائی حاصل تھی وہ بھی اس قانون کے بعد اور مشکل بن گئی۔ چوتھا قانون اخبارات، رسائل و جرائد اور خبر رساں اداروں کے اندراج کا تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ جب وکلاء کی تحریک نے زور پکڑا اور اخبارات میں عدلیہ پر تنقید ہونے لگی تو حکومت نے عدلیہ کی توہین کا سخت قانون نافذ کردیا جس کے تحت عدلیہ کے فیصلوں پر تنقید کرنے والوں کو دو سال قید اور جرمانہ کی سزا ہوسکتی ہے۔ یوں آزادی اظہار پر ایک اور پابندی عائد کردی گئی۔ یہی وہ حالات ہیں جن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان نے سن دو ہزار کے بارے میں اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا تھا کہ صحافیوں کو ان کے کام سے روکنے کے اقدامات میں اضافہ ہوا ہے۔ صحافیوں کو عدالتوں اور دیگر جگہوں پر رپورٹنگ کے لیے جانے سے روکا گیا اور کئی واقعات میں ان کے خلاف تشدد کا استعمال بھی کیا گیا۔ کمیشن نے اس ضمن میں متعدد واقعات کی مثالیں بھی دیں تھیں۔ دشواری یہ ہے کہ غیرسرکاری تنطیموں کی طرف سے صحافیوں کی مشکلات اور ان کے خلاف ہونے والے اقدامات پر بیان تو جاری ہوجاتے ہیں اور متعدد بار ایسا بھی ہوا ہے کہ متاثرہ صحافی ملک چھوڑ کر امریکہ یا برطانیہ منتقل ہوجاتے ہیں لیکن پاکستان میں صحافیوں کی تنظیمیں اس کا بہت کم نوٹس لیتی ہیں۔ ایسا بھی ذرا کم ہی ہوتا ہے کہ صحافیوں کی ٹریڈ یونینز ، پریس کلب اور اخبارات کے مالکان کی تنظیمیں ان واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائیں اور حکومت کی زیادتیوں کے خلاف مؤثر آواز اٹھائیں۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان پریس کلب کے بھاری اخراجات بھی حکومت کے سالانہ عطیات سے پورے ہوتے ہیں اور سرکاری اشتہارات قومی اخبارات کی آمدن کا بڑا ذریعہ ہیں۔
ان حالات میں متاثرہ صحافیوں کے پاس شاید اب بھی اپنی سلامتی کا ایک ہی راستہ ہے کہ انسانی حقوق اور آزادئ صحافت کی عالمی تنظیموں کے دروازوں پر دستک دیں اور برطانیہ یا امریکہ کا ویزا لے کر ملک سے نکل جائیں اور واپسی کے لیے کسی ایسی حکومت کے اقتدار میں آنے کا انتظار کریں جن سے ان کی پرخاش نہ ہو۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||