BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 October, 2003, 09:00 GMT 14:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آزادئ صحافت: پاکستان بھارت برابر
پاکستان میں صحافت کی آزادی کے لئے کئی مظاہرے ہوئے ہیں
پاکستان میں صحافت کی آزادی کے لئے کئی مظاہرے ہوئے ہیں

دنیا میں میڈیا کتنا آزاد ہے؟ اس کا تعین کرنے والی ایک تنظیم نے حال ہی میں اپنی تازہ رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق پاکستان اور بھارت صحافت کی آزادی دینے میں برابر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایک سو سڑسٹھ ممالک کی فہرست میں برِ صغیر کے یہ دونوں ملک ایک سو اٹھائیسویں نمبر پر ہیں۔

’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ نامی یہ تنظیم جسے آر ایس ایف بھی کہا جاتا ہے عالمی درجہ بندی کی تازہ ترین فہرست میں کہتی ہے کہ دنیائے صحافت میں سب سے اچھی صورتِ حال شمالی یورپ کے چند ملکوں کی جبکہ سب سے خراب صورتِ حال کچھ ایشیائی ممالک کی ہے۔

آر ایس ایف کی رپورٹ کے مطابق فن لینڈ، آئس لینڈ، نیدر لینڈز اور ناروے چار ایسے ممالک ہیں جہاں صحافیوں کو سب سے زیادہ آزادیاں حاصل ہیں۔

صحافت کی آزادی کا معیار قائم کرنے والی تنظیم کے مطابق درجہ بندی کی فہرست کی تیاری میں صحافیوں، تحقیق کاروں، عدلیہ کے اہلکاروں اور حقوقِ انسانی کے کارکنوں کی رائے پر زیادہ انحصار کیا گیا ہے۔

کئی ایسے ممالک میں جہاں جمہوری حکومتیں قائم ہیں صحافت کی آزادی کا معیار خراب ہے مثلاً بنگلہ دیش ایک سو تینتالیسویں، فلپائن ایک سو اٹھارویں اور کولمبیا ایک سو سینتالیسویں نمبر پر ہے۔

سب سے اچھا کون؟
آر ایس ایف کی رپورٹ کے مطابق فن لینڈ، آئس لینڈ، نیدر لینڈز اور ناروے چار ایسے ممالک ہیں جہاں صحافیوں کو سب سے زیادہ آزادیاں حاصل ہیں
آر ایس ایف

درجہ بندی کی اس فہرست کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے معیار دوہرے ہیں۔ اپنے ملک کا معاملہ ہو تو صحافتی آزادی میں امریکہ اکتیسویں جبکہ اسرائیل چوالیسویں نمبر پر ہے۔

لیکن جب بات دوسرے ملکوں کی ہو یا صحافی دوسرے ملکوں کے ہوں تو امریکہ اور اسرائیلی کی صحافتی آزادی کا معیار بالکل مختلف ہوتا ہے اور فہرست کے مطابق امریکہ اکتیسویں کی بجائے ایک سو پینتیسویں اور اسرائیل چوالیسویں کی بجائے ایک سو چھیالیسویں نمبر پر گر جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق عراق میں امریکی قبضے کے بعد امریکہ کا نمبر صدام حسین سے بھی زیادہ گرا ہوا ہے، کیونکہ صحافتی آزادی کی درجہ بندی میں صدام حسین کی حکومت ایک سو چھبیسویں نمبر تھی۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ایشیا کے آٹھ ممالک یعنی شمالی کوریا، برما، لاؤس، چین، ایران، ویت نام، ترکمانستان اور بھوٹان آزادئ صحافت کی درجہ بندی میں نچلے دس ممالک ہیں شامل ہیں۔ ان ممالک میں غیر جانبدار میڈیا یا تو ہے ہی نہیں یا پھر اسے حکومتیں مسلسل دبا کر رکھتی ہے۔ ان ممالک میں صحافی انتہائی مشکل حالات میں کام کرتے ہیں، انہیں نہ تحفظ حاصل ہے نہ آزادی۔ چین، ایران اور برما میں تو کئی صحافی قید بھی ہیں۔

بش حکومت، صدام سے بھی آگے
عراق میں امریکی قبضے کے بعد امریکہ کا نمبر صدام حسین سے بھی زیادہ گرا ہوا ہے، کیونکہ صحافتی آزادی کی درجہ بندی میں صدام حسین کی حکومت ایک سو چھبیسویں نمبر تھی

عرب ممالک میں عراق کے خلاف جنگ کے دوران یہ بات واضح ہو کر سامنے آئی ہے کہ عرب حکومتوں نے صحافیوں کی آزادیاں سلب کی ہیں۔ اس سلسلے میں صحافیوں کے خلاف سب سے زیادہ سختی کویت نے کی جس کا فہرست میں نمبر ایک سو دو ہے۔

یورپی اتحاد کے ممالک میں اٹلی اور سپین کا حال آزادیِ صحافت میں خراب رہا ہے۔ درجہ بندی میں اٹلی کا نمبر ترپن ہے اور وزیرِ اعظم برلسیکونی کی ریڈیو اور ٹی وی میں اصلاحات متعارف کرانے کے قانون کی منظوری کے بعد صورتِ حال مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔

سپین میں دہشت گردی تنظیم ای ٹی اے کی طرف سے صحافیوں کے خلاف دھمکیوں میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ سپین فہرست میں بیالیسویں نمبر پر ہے۔

فرانس میں ہتک عزت کے قانون، صحافیوں کی حراست اور ذرائع ظاہر کرنے کے اصولوں کو درپیش چلینجوں کے باعث اس کا نمبر چھبیسواں ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد