BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 November, 2004, 15:21 GMT 20:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا: غیر ملکیوں کی تلاش جاری

 پاکستانی فوجی وانا میں
ہزاروں فوجی علاقے میں غیر ملکی دہشت گردوں کو تلاش کر رہے ہیں۔
پاکستان میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ہزاروں سپاہیوں اور جنگی ہیلی کاپٹروں کی مدد سے جاری تلاشی مہم کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔

ادھر حکومت کو القاعدہ کی مدد میں مطلوب پانچ قبائلی آج انتظامیہ کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔

پشاور میں صحافیوں کے ایک گروپ کو اس نئی کارروائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کور کمانڈر پشاور لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین نے کہا ہے کہ منگل کو شروع کی جانے والی اس مہم کے تحت آج ڈیلہ اور خونخیلہ کے علاقوں کی تلاشی لی گئی ہے۔

اس مہم میں سات ہزار فوجی جنگی ہیلی کاپٹروں کی مدد سے علاقے کی چھان بین کر رہے ہیں۔ اس تلاشی کے دوران جنجگو عبداللہ محسود کے گھر کی بھی تلاشی لی گئی جہاں سے انہیں ایک گھوڑے اور کچھ اسلحے کے سوا اور کچھ ہاتھ نہیں آیا ہے۔

فوجی حکام کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم عبداللہ اس وقت کہاں ہے۔ فوجی حکام نے منگل سے جاری اس کارروائی میں تین فوجیوں کی ہلاک ہونے کی تصدیق کی البتہ دوسرے فریق یا عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں کوئی اعداد وشمار نہیں دیے۔

یہ مہم حکام کے مطابق علاقے میں روپوش غیرملکی عناصر اور ان کے مقامی ساتھیوں کے خلاف ہے۔

حکام کے مطابق انہیں کراچی کے چند مدراس کی پرچیاں وزیرستان میں گرفتار کئے جانے والوں سے ملیں ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں علاقوں کی صورتحال میں کوئی تعلق ضرور ہے۔

ادھر جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں آج احمدزئی وزیر قبائل سے تعلق رکھنے والے پانچ انتہائی مطلوب افراد کل طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت مقامی انتظامیہ کے سامنے پیش ہوئے۔

ان پانچ افراد – محمد شریف، محمد جاوید، حاجی عمر، مولوی عبدالعزیز اور مولوی عباس کے قبائل نے ان کے پرامن رہنے کی ضمانت دی ہے جس کے جواب میں حکومت نے انہیں گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس موقعے پر صحافیوں سے بات چیت میں نیک محمد کے جانشین حاجی عمر نے کہا کہ فوج کے ساتھ تصادم غلط فہمی کا نتیجہ تھا۔

اس معاہدے کو حکام ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں کہ اس طرح وہ اب محسود علاقے پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کر سکیں گے۔

اس معاہدے اور اس سال اپریل میں شکئی کے معاہدے میں بڑا فرق اس میں ان افراد پر یہ بات لازم قرار نہیں دی گئی کہ وہ غیرملکیوں کے اندراج میں حکومت کا ساتھ دیں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد