وہ جو مرجاتے ہیں! | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مجھے یاد ہے کہ جب انیس سو تہتر میں پنجاب اور سندھ میں خوفناک سیلاب آیا تھا، سولہ سو سے زائد لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ تین ملین کے لگ بھگ گھر تباہ ہوئے تھے۔ ان گنت لوگوں نے اونچے مقامات اور سینکڑوں ریلیف کیمپوں میں پناہ لی تھی۔اسلامی اور غیر اسلامی ممالک نے امداد کے نام پر کیا کیا نہ بھیجا تھا۔ نقدی، کمبل، گرم کپڑے، خیمے، خشک دودھ، بسکٹ وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔ یہ تو نہیں معلوم کہ سیلاب زدگان کو اس میں سے کیا کیا مل پایا لیکن مجھے اتنا یاد ہے کہ امداد میں آئی ہوئی پولینڈ اور سویڈن کی خوبصورت سی ماچسیں اور عربی عبارت والے گھی کے ڈبے اور خوشنما چینی کمبل بہت عرصے تک کھلے عام بازاروں میں بکتے رہے۔ مجھے یاد ہے کہ اہم ناکوں پر قائم سیاسی جماعتوں کے شامیانہ اسٹالوں، کریانے کی دکانوں، جنرل اسٹورز، سنیما گھروں اور مساجد کے باہر سیلاب زدگان کی امداد کے لئے چندے کے ڈبے کئی ماہ تک رکھے رہے۔گلیوں بازاروں میں فقیروں کی ایک نئی کھیپ متعارف ہوئی۔ان سب کے لبوں پر ایک ہی گردان تھی۔’اللہ کے نام پر کچھ مدد کردو بابا، سیلاب میں سب کچھ لٹ گیا۔‘ بلوچستان کے ساحلی علاقے مکران میں مارچ انیس سو اٹھانوے میں پہاڑی نالوں سے اتنی شدید طغیانی آئی کہ سو سے زائد دیہات بہہ گئے۔اٹھارہ سو کے لگ بھگ لوگ ہلاک ہوئے۔ چار ہزار مکانات تباہ ہوئے اور پچاس ہزار ایکڑ کھڑی فصلیں برباد ہوگئیں۔اس قیامت کے کوئی ایک برس بعد میں مکران گیا۔ لوگوں نے بتایا کہ خاصی امداد آئی تھی لیکن بااثر مقامی لوگوں نے بیشتر امداد سیلاب زدگان تک پہنچانے کے بجائے اپنے ڈیروں میں ذخیرہ کرلی۔ پھر یہ امداد بلدیاتی انتخابات کے موقع پر ووٹروں اور کارکنوں میں بٹی۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے انیس سو نوے۔بانوے کے دوران قائم کردہ وزیرِاعظم فنڈ کے لئے ہنگامی رقم مختص کی گئی۔انیس سو ننانوے میں جب آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے دفتر نے پڑتال کی تو معلوم یہ ہوا کہ مختص کردہ دو سو پینتالیس ملین روپے میں سے تقریباً آدھے یعنی ایک سو بیس ملین روپے خرد برد، قوانین کی خلاف ورزی اور ریکارڈ کی عدم دستیابی کے سبب گنتی میں نہ آ سکے۔ رپورٹ کے مطابق اکثر متاثرین کو مناسب سروے کے بغیر امداد دی گئی۔قدرتی آفات سے نمٹنے کے کئی ذمےدار اہلکاروں کے دفاتر کے لئے ائیرکنڈیشنڈ اور کولرز بھی اسی رقم میں سے خریدے گئے۔ بحرِ ہند میں سونامی نے جو قیامت مچائی ہےاس سے نمٹنے کے لئے اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اب تک دو ارب ڈالر جمع ہوگئے ہیں۔اور ابھی مزید رقم جمع ہوگی۔ اس طرح کی آفات میں دیکھا یہ گیا ہے کہ دو طرح کے لوگ ہی زیادہ فائدے میں رہتے ہیں۔ایک وہ جو فوراً مرجاتے ہیں اور ہر طرح کی امداد سے بے نیاز ہوجاتے ہیں۔ دوسرے وہ جو زندہ رہ جانے والوں میں امداد بانٹنے کے ذمے دار بنائے جاتے ہیں۔ سونامی کے نتیجے میں بھی نہ جانے کیوں مجھے انڈونیشیا سے صومالیہ تک کئی نئے شاندار گھربنتے اور سینکڑوں بینک بیلنس بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||