عالمی امداد اور ترسیل کے مسائل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بحرہ ہند میں دنیا بھر سے سمندری اور بحری جہاز امداد لے کر سونامی کا نشانہ بننے والے ممالک میں پہنچ رہے ہیں۔ جاپان کے وزیر اعظم نے پانچ سو ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا جو اب تک کسی ملک کی طرف سے سب سے زیادہ امداد ہے۔ ایک امریکی طیارہ بردار جہاز سے ہیلی کاپٹر انڈونیشیا کے زیادہ متاثرہ علاقوں میں امداد لے کر جا رہے ہیں۔ اسی دوران مال بردار طیارے سری لنکا اور تھائی لینڈ کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔ لیکن انڈونیشیا میں حکام کا کہنا ہے کہ امدادی سامان کی ترسیل کا نظام قائم نہیں ہو سکا۔ سونامی کے نتیجے میں کم سے کم ایک لاکھ چوبیس ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار ہو چکی ہے اور شاید یہ کبھی معلوم نہ ہو سکے کے کتنے لوگ ہلاک ہوئے۔ چھبیس دسمبر کو انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا کے قریب سمندر کی تہہ میں آنے والے زلزلے کے بعد پیدا ہونے والی طوفانی لہروں سے ملیشیا سے لے کر افریقہ کے ساحلوں تک تباہی پھیل گئی ہے۔ دنیا بھر میں کئی مقامات پر نئے سال کی تقریبات منسوخ کر دی گئیں اور ہلاک ہونے والوں کی یاد منائی گئی۔ سویڈن، ڈینمارک، ناروے اور فنلینڈ میں، جہاں سے بڑی تعداد میں لوگ چھٹیاں منانے بحرہ ہند کے ساحلوں کی طرف گئے تھے، سوگ کا دن منایا گیا۔ انڈونیشیا کے علاقے آچے میں بی بی سی کی نامہ نگار ریچل ہاروے نے بتایا کہ امداد کے آنے سے بہتری کی کچھ امید ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارہ امریکی ہیلی کاپٹر امداد لے کر پہنچ چکے ہیں۔ نامہ نگار نے کہا کہ مواصلات کا نظام تباہ ہونے کی وجہ سے ہیلی کاپٹروں کی سخت ضرورت تھی۔ انڈونیشیا کے صدر نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری ذمہ داری ہے کہ ہر شخص کو بچائیں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||