بحالی میں دس سال لگ سکتے ہیں: عنان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان کا کہنا ہے کہ بحر ہند کے سونامی طوفان کا نشانہ بننے والے ملکوں کو اس تباہی سے سنبھلنے میں دس سال تک لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اب تک کی سب سے بڑی اور ہولناک تباہی ہے جس کا اقوام متحدہ کو سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ کوفی عنان جمعرات کو انڈونیشیا جارہے ہیں جہاں سونامی کے متاثرہ ممالک کی امداد کے مربوط منصوبہ پر غور کرنے کے لئے عالمی رہنما جمع ہو رہے ہیں۔ انڈونیشیا میں جہاں آچے کا شمالی سرا، زیر سمندر زلزلہ کا مرکز تھا سب سے زیادہ تباہی آئی ہے۔ اب تک ایک لاکھ چوبیس ہزار افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسی ہزار سے زیادہ افراد اس طوفان کا لقمعہ اجل بنے ہیں۔ تباہی کا عالم یہ ہے کہ بندر گاہ میلا بوہ جس میں پچاس ہزار افراد رہتے تھے صفحہ ہستی سے مٹ گئی ہے۔
امریکہ نے شروع میں صرف پینتیس ملین ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کیا تھا لیکن جب اس پر بے حسی اور کنجوسی کے الزامات عاید ہوئے تو صدر بش نے جمعہ کو امدادی رقم می دس گنا اضافہ کا اعلان کیا۔ اب صدر بش نے سونامی کا لقمہ اجل بننے والے ایک لاکھ پچاس ہزار سے زیادہ افراد کے سوگ میں اگلے ہفتہ امریکہ کے پرچم سرنگوں کرنے کا حکم دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کولن پاول اتوار کے روز سونامی سے ہونے والی تباہی کا جائزہ لینے کے لیے ایشیائی ملکوں کا دورہ کرنے والے ہیں۔ امریکی ریاست فلوریڈا کے گورنر اور صدر بش کے بھائی جیب بش بھی اس دورے کے دوران کولن پاول کے ساتھ ہوں گے۔ سنیچر کو انڈونیشیا کے دور افتادہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچنا شروع ہو گیا ہے لیکن رفتار اب بھی بہت سست ہے۔ امریکا کا جنگی جہاز ابراہم لنکن بندہ آچے میں لنگر انداز ہے اور اس کے ہیلی کاپٹر دور افتادہ علاقوں میں امدادی سامان گرا رہے ہیں۔ ادھر سری لنکا میں جہاں سونامی طوفان سے تیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں، شدید بارشوں کے بعد سیلاب سے امدادی کاموں میں سخت مشکلات پیش آرہی ہیں خاص طور پر جزیرہ کے مشرق میں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||