BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 December, 2004, 15:37 GMT 20:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سنامی: امدادی کارکن کی ڈائری
متاثرین
ایشیا کے مختلف ممالک میں سنامی زلزلے کے بعد بہت سے امدادی ادارے متاثرین کی مدد کے لیے پہنچ گئے ہیں۔ سری لنکا کے مشرقی شہر بٹی کالا میں نتاشا کسیری ایک امدادی ادارے سیو دی چلڈرن کے لیے کام کرتی ہیں۔ ان کے شوہر ٹیمو گاسبیک نے سنامی کے بعد اپنی اور بیوی کی روزانہ کی مصروفیات اور متاثرین کی امداد کے لیے کی جانے والی کارروائیوں پر بی بی سی کے لیے ایک ڈائری مرتب کی ہے۔

بدھ بعد از دوپہر:

خدا کا شکر ہے کہ ہمارے پاس موبائل فون، انٹرنیٹ اور لینڈ کروزر جیسی سہولیات موجود ہیں جن کی وجہ سے زندگی قدرے آسان ہو جاتی ہے۔

زندگی بہت مصروف ہے لیکن مجھے احساس ہے کہ میرا کام کتنا آسان ہے۔ میں علاقے میں امدادی کارروائیوں کے حوالے سے تمام اداروں کے لیے ایک ڈیٹا بیس بنا رہا ہوں تاکہ ان اداروں کے درمیان تعاون کو آسان بنایا جا سکے۔

میں نے ایسے والدین کے قصے سنے ہیں جن کے بچے زلزلے میں ہلاک ہو گئے اور وہ کسی اور بچے کو اپنانے کے لیے لڑ رہے تھے۔ میں نے سمندر کے کنارے پر پڑی ہوئی لاشوں کے بارے قصے بھی سنے۔ میں کئی دوستوں سے ملا ہوں جن کے خاندانوں کے افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

میں نے گزشتہ چند دنوں میں بہت سے لوگوں کو پانی کے قریب کھڑے لاشوں کو دیکھتے دیکھا ہے۔ آج مجھے احساس ہوا ہے کہ شاید ان میں سے اکثر تماش بین ہی نہیں بلکہ اپنے عزیزوں کو ڈھونڈ رہے ہیں۔

بدھ صبح سات بج کر دس منٹ:

اگلے چند دنوں میں تھکاوٹ کا احساس زیادہ ہوگا۔ شروع میں ہونے والا ذہنی دباؤ اب کم ہوگیا ہے اور اب امدادی کارروائی بھی آسانی سے جاری ہیں لیکن ہمارے صبر کا امتحان اب شروع ہوگا۔

اب کوئی اور نہیں مر رہا مگر ہمیں وبائی امراض کے بچاؤ کے لیے زیادہ کوشش کرنا ہوگی۔ اگر وبا پھیلی تو ہمیں ایک نئی تباہی کا سامنا ہوگا۔

بدھ صبح سات بجے:

آدھا گھنٹہ پہلے نئے دن کا آغاز ہوا ہے۔ پرندے چہچہا رہے ہیں اور دفتر میں خاموشی ہے۔ ابھی فون بجنا شروع ہوگیا ہے۔

میں جلدی سے نہایا ہوں اور کسی وقت مجھے گھر سے اپنے اور نتاشا کے لیے صاف کپڑے لانے ہوں گے۔ ہم گزشتہ کئی روز سے ایک ہی کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ مجھے احساس ہے کہ ہم کتنے خوش قسمت ہیں کہ ہم گھر سے صاف کپڑے لا سکتے ہیں۔ اب کام کا وقت ہوگیا ہے۔ آج صبح بہت سے کام کرنے ہیں۔

بدھ صبح ڈیڑھ بجے:

جلد ہی میں سونے کے لیے سلیپنگ بیگ میں گھس جاؤں گا۔ میری بیوی نتاشا دفتر میں میرے قریب ایک چٹائی پر سوئی ہوئی ہے۔ وہ بہت تھکی ہوئی ہے اس لیے کہ گزشتہ بہتر گھنٹوں میں اسے آرام کے لیے صرف چھ گھنٹے ملے ہیں۔ میں متاثرین کے جائزے کے لیے ایک فارم بنا رہا ہوں جو تمام امدادی ادارے صورتحال جاننے کے لیے استعمال کر سکیں گے۔

آج زیادہ وقت امدادی کارروائیوں کا جائزہ لگانے اور خوراک تقسیم کرنے میں گزرا۔ یہ ایک خوش کن بات ہے کہ ملک میں بہت سے لوگوں نے خوراک اور کپڑوں کی امداد فراہم کی ہے تاہم اب بھی مزید امداد کی ضرورت ہے۔

گزشتہ روز سیو دی چلڈرن نے نو ہزار لوگوں کو خوراک مہیا کی اور آج ہم آٹھ ہزار افراد میں خوراک تقسیم کریں گے۔ اب ہم چٹائیاں، پینے کا پانی، پلیٹیں اور لیٹرین کی سہولیات فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

جلد ہی جب لوگ اپنے اپنے گاؤں واپس لوٹیں گے تو وہاں سر چھپانے کی جگہ چاہیے ہوگی۔

امدادی اداروں نے سرگرمیوں کو بانٹ لیا ہے جس سے کام کافی حد تک آسان ہوگیا ہے۔ میرا خیال ہے بٹی کالا کے زیادہ تر حصوں میں امداد پہنچ چکی ہے اور آئندہ دو روز میں امپارہ میں بھی امداد پہچ جائے گئی۔

زخمیوں کی جانیں بچانے کی کوششیں اب ختم ہوگئی ہیں اور اب آئندہ دو ہفتوں میں پیش آنے والی ضروریات پر توجہ دی جا رہی ہے۔

سمندر کے پاس جھیل میں تیرتی ہوئی لاشیں ایک معمول سا بن گیا ہے لیکن سمندر کے کنارے پر آبادی کی جگہ پر ریت کو دیکھ کر یا بیرون ملک سے کسی کا ہمدردانہ پیغام پڑھ کر دل بیٹھ سا جاتا ہے۔

جیسے جیسے وقت گزرے گا کچھ اور جانے پہچانے لوگوں کے نام ذہن میں آئیں گے جو اس آفت میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ان میں کچھ اب بھی زندہ ہوں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد