BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 December, 2004, 05:14 GMT 10:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاکھ سے زائد ہلاک ہوئے: ریڈکراس کا خدشہ
متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کے پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے
متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کے پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے
ریڈ کراس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سمندری طوفان سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد لاکھ سے زائد ہو سکتی ہے۔

ریڈ کراس کے ایک اعلیٰ اہل کار نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ہندوستان کے انڈامان اور نکوبار جزائر میں ہلاک شدگان کی گنتی کے بعد تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو گا۔

اس سے پہلے کہا گیا تھا کہ بحر ہند میں آنے والے بدترین سمندری طوفان میں مرنے والوں کی تعداد ستر ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

اس سمندری طوفان سے متاثر ہونے والے لاکھوں افراد کے لیے دنیا بھر سے امدادی سرگرمیاں زورں پر ہیں۔

صرف انڈونشیا میں مرنے والوں کی تعداد چالیس ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

قدرتی آفات کا اندازہ کرنے والے اور بین الاقوامی امدادی تنظیمیں اور ادارے متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے ہیں اور لوگوں کو امداد مہیا کرنے کے انتظامات کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ انہیں بیک وقت دس ملکوں میں متاثرہ افراد کو امداد مہیا کرنے کے چیلنج کا سامنا ہے۔

سری لنکا کی صدر چندریکا کمارا تنگا نے اس قدرتی آفت کو ملک میں امن کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرنے کا سوچا ہے۔

صدر چندریکا کماراتنگا نے علیحدگی پسند تامل ٹائیگرز سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک میں حالیہ بربادی کے پیش نظر ہتھیار رکھ دیں۔

البتہ تامل ٹائیگرز اپنے زیرانتظام علاقوں میں خود امدادی کارروائیاں کرنے میں مصروف ہیں اور امداد کے لیے بھی الگ اپیل کر رکھی ہے۔

تنظیم کے ایک ترجمان سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت کو دی جانے والی امداد ملک کے شمال مشرقی علاقوں تک نہیں پہنچ سکی ہے۔

سری لنکا میں اٹھارہ ہزار افراد ہلاک اور دس لاکھ سے زیادہ بے گھر ہوئے ہیں۔ سری لنکا میں جمعہ کے روز سرکاری طور پر سوگ منایا جائے گا۔

News image
ملبے سے لاشیں ابھی تک نکالی جارہی ہیں

زلزلے کا مرکز انڈونیشیا کے صوبہ آچے کا شمالی علاقہ سمارٹا کے قریب تھا جہاں اب تک پندرہ ہزار افراد کے ہلاک ہو جانے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ حکام کہتے ہیں کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ریچل ہاروی کا کہنا ہے کہ انہوں نے آچے کے شہر بانڈا کی سڑکوں پر سیکنڑوں کی تعداد میں لاشیں بکھری دیکھی ہیں جن کے جسم پانی کی وجہ سے پھولے ہوئے ہیں۔
سمندری طوفان سے ان گنت بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں

وہ نامہ نگار جو آچے پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہتے ہیں کہ بیشتر ساحلی علاقہ ابھی تک پانی میں ڈوبا ہوا ہے اور شہر اور قصبے صفحۂ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔

سری لنکا میں حکومت نے اٹھارہ ہزار سے زیادہ افراد کی موت کی تصدیق کر دی ہے لیکن وہاں اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچیس ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ سری لنکا میں دس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

News image
بہت سے سیاح بھی مرنے والوں میں شامل ہیں

بھارت میں سات ہزار افراد مارے گئے ہیں جبکہ تھائی لینڈ میں چودہ سو افراد کے ہلاک ہوجانے کی اطلاع ہے جن میں اکثریت غیر ملکی سیاحوں کی ہے۔ متاثرہ ہونے والے ممالک میں ملیشیا، مالدیپ، بنگلہ دیش، برما اور مشرقی افریقہ بھی شامل ہیں۔
تباہی کے بعد۔ لیکن اب بچا کیا ہے؟

سری لنکا میں امدادی کارکنوں پر دباؤ ہے کہ وہ دس لاکھ کے قریب متاثرین کو پینے کا صاف پانی فراہم کریں اور بیمایوں سے روک تھام کے اقدامات کریں۔

اقوامِ متحدہ نے مقامی طور پر امدادی مراکز کھول دیے ہیں تاہم بی بی سی کے نامہ نگار رونلڈ بیورک کہتے ہیں کہ ملک کے جنوب مغرب میں ابھی تک امدادی اشیاء پہنچنے کا کوئی نشان تک نہیں۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے ایک فوجی ہیلی کاپٹر پر کولمبو کے جنوبی علاقوں کے دورے کے بعد اطلاع دی ہے کہ طوفان نے ریل کی ایک پٹری کو مکمل طور پر اکھاڑ دیا جب کہ مسافر گاڑی کا ایک ڈبہ تباہ شدہ حالت میں پٹری سے کئی سو گز کے فاصلہ پر پڑا تھا۔

بھارت
بھارت کے دو ہزار کلو میٹر طویل جنوب مشرقی ساحلی علاقہ طوفانی لہروں کی زد میں آیا جن میں تامل ناڈو، آندھرا پردیش، کیرالہ اور پانڈیچیری کا قبائلی علاقہ شامل ہے۔ تامل ناڈو کا دارالحکومت چنئی سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں ڈھائی ہزار سے زائد ماہی گیروں کی جھونپڑیاں تباہی کی نذر ہوگئیں اور صرف چنئی میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔

News image
لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفنایا جا رہا ہے

بھارت میں مرنے والوں کی تعداد تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سات ہزار کے قریب ہے۔ ان میں نکو بار اور اینڈمان کے جزائر میں مرنے والے تین ہزار افراد بھی شامل ہیں۔

لہریں جن کے پیاروں کو لے گئیں

اینڈمان میں تعینات ایک پولیس اہلکار نے کہا ہے کہ بہت سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں اور ایک جزیرے پر رہنے والے لوگوں سے کوئی رابط نہیں ہو سکا۔

مالدیپ
مالدیپ کے کئی جزیرے جو سطح سمندر سے چند فٹ کی بلندی پر تھے، اس سمندری طغیانی سے تباہ ہو گئے ہیں۔ مالدیپ کے دوسو جزائر سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔

تھائی لینڈ
جنوبی تھائی لینڈ کے مغربی ساحلی علاقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جن میں پوکھٹ اور فیفی جزیرے اور کرابی اور فانگ نگا کے تفریحی مقامات تباہ ہو گئے ہیں۔

ملایشیا
ملائیشیا کے ساحل پیناگ پر کئی لوگ طوفانی لہروں میں بہہ گئے۔

News image
سیلاب کے بعد وبائیں پھیل رہی ہیں

صومالیہ
اس طوفان کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بر اعظم افریقہ کے مشرقی ساحل پر واقع ملک صومالیہ کا شمالی حصہ بھی اس سے متاثر ہوا جو کہ زلزلے کے مرکز سے چھ ہزار کلو میٹر دور واقع ہے۔ وہاں سینکڑوں کی تعداد میں ماہی گیروں کے ڈوب جانے کا اندیشہ ہے۔

فطرت اگر اپنی بے رحمی دکھائے تو زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہی زندگی کو چھین لیتی ہے

امریکی جیولاجیکل سروے نے جس نے پہلے ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 8.9بتائی تھی، اس میں تبدیلی کی ہے اور کہا کہ زلزلے کی شدت 9 تھی جو گزشتہ چالیس برس کے دوران دنیا بھر میں کہیں بھی آنے والا شدید ترین زلزلہ ہے۔

اس سمندری زلزلے کے اثرات براعظم افریقہ میں محسوس کیے گئے ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق صومالیہ میں نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں ۔

پاکستان کے ساحلی علاقے بحرہند کے کنارے پر ہونے کے باوجود اس کی تباہی سے بچ گئے ہیں۔ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ امدادی کاموں میں بھرپور مدد کرے گا۔

اس سلسلے میں یورپی یونین نے متاثرین کی امداد کے لیے فوری طور پر تیس لاکھ یورو فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اور دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات کی بھرمار شروع ہو گئی ہے۔

پوپ جان پال دوئم نے کہا ہے کہ وہ اس شدید سانحہ کی زد میں آنے والے افراد کے لیے دعا گو ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد