لاکھ سے زائد ہلاک ہوئے: ریڈکراس کا خدشہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریڈ کراس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سمندری طوفان سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد لاکھ سے زائد ہو سکتی ہے۔ ریڈ کراس کے ایک اعلیٰ اہل کار نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ہندوستان کے انڈامان اور نکوبار جزائر میں ہلاک شدگان کی گنتی کے بعد تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو گا۔ اس سے پہلے کہا گیا تھا کہ بحر ہند میں آنے والے بدترین سمندری طوفان میں مرنے والوں کی تعداد ستر ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس سمندری طوفان سے متاثر ہونے والے لاکھوں افراد کے لیے دنیا بھر سے امدادی سرگرمیاں زورں پر ہیں۔ صرف انڈونشیا میں مرنے والوں کی تعداد چالیس ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ قدرتی آفات کا اندازہ کرنے والے اور بین الاقوامی امدادی تنظیمیں اور ادارے متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے ہیں اور لوگوں کو امداد مہیا کرنے کے انتظامات کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ انہیں بیک وقت دس ملکوں میں متاثرہ افراد کو امداد مہیا کرنے کے چیلنج کا سامنا ہے۔ سری لنکا کی صدر چندریکا کمارا تنگا نے اس قدرتی آفت کو ملک میں امن کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرنے کا سوچا ہے۔ صدر چندریکا کماراتنگا نے علیحدگی پسند تامل ٹائیگرز سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک میں حالیہ بربادی کے پیش نظر ہتھیار رکھ دیں۔ البتہ تامل ٹائیگرز اپنے زیرانتظام علاقوں میں خود امدادی کارروائیاں کرنے میں مصروف ہیں اور امداد کے لیے بھی الگ اپیل کر رکھی ہے۔ تنظیم کے ایک ترجمان سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت کو دی جانے والی امداد ملک کے شمال مشرقی علاقوں تک نہیں پہنچ سکی ہے۔ سری لنکا میں اٹھارہ ہزار افراد ہلاک اور دس لاکھ سے زیادہ بے گھر ہوئے ہیں۔ سری لنکا میں جمعہ کے روز سرکاری طور پر سوگ منایا جائے گا۔
زلزلے کا مرکز انڈونیشیا کے صوبہ آچے کا شمالی علاقہ سمارٹا کے قریب تھا جہاں اب تک پندرہ ہزار افراد کے ہلاک ہو جانے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ حکام کہتے ہیں کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار ریچل ہاروی کا کہنا ہے کہ انہوں نے آچے کے شہر بانڈا کی سڑکوں پر سیکنڑوں کی تعداد میں لاشیں بکھری دیکھی ہیں جن کے جسم پانی کی وجہ سے پھولے ہوئے ہیں۔ وہ نامہ نگار جو آچے پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہتے ہیں کہ بیشتر ساحلی علاقہ ابھی تک پانی میں ڈوبا ہوا ہے اور شہر اور قصبے صفحۂ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ سری لنکا میں حکومت نے اٹھارہ ہزار سے زیادہ افراد کی موت کی تصدیق کر دی ہے لیکن وہاں اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچیس ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ سری لنکا میں دس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔
بھارت میں سات ہزار افراد مارے گئے ہیں جبکہ تھائی لینڈ میں چودہ سو افراد کے ہلاک ہوجانے کی اطلاع ہے جن میں اکثریت غیر ملکی سیاحوں کی ہے۔ متاثرہ ہونے والے ممالک میں ملیشیا، مالدیپ، بنگلہ دیش، برما اور مشرقی افریقہ بھی شامل ہیں۔ تباہی کے بعد۔ لیکن اب بچا کیا ہے؟ سری لنکا میں امدادی کارکنوں پر دباؤ ہے کہ وہ دس لاکھ کے قریب متاثرین کو پینے کا صاف پانی فراہم کریں اور بیمایوں سے روک تھام کے اقدامات کریں۔ اقوامِ متحدہ نے مقامی طور پر امدادی مراکز کھول دیے ہیں تاہم بی بی سی کے نامہ نگار رونلڈ بیورک کہتے ہیں کہ ملک کے جنوب مغرب میں ابھی تک امدادی اشیاء پہنچنے کا کوئی نشان تک نہیں۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے ایک فوجی ہیلی کاپٹر پر کولمبو کے جنوبی علاقوں کے دورے کے بعد اطلاع دی ہے کہ طوفان نے ریل کی ایک پٹری کو مکمل طور پر اکھاڑ دیا جب کہ مسافر گاڑی کا ایک ڈبہ تباہ شدہ حالت میں پٹری سے کئی سو گز کے فاصلہ پر پڑا تھا۔ بھارت
بھارت میں مرنے والوں کی تعداد تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سات ہزار کے قریب ہے۔ ان میں نکو بار اور اینڈمان کے جزائر میں مرنے والے تین ہزار افراد بھی شامل ہیں۔ لہریں جن کے پیاروں کو لے گئیں اینڈمان میں تعینات ایک پولیس اہلکار نے کہا ہے کہ بہت سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں اور ایک جزیرے پر رہنے والے لوگوں سے کوئی رابط نہیں ہو سکا۔ مالدیپ تھائی لینڈ ملایشیا
صومالیہ فطرت اگر اپنی بے رحمی دکھائے تو زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہی زندگی کو چھین لیتی ہے امریکی جیولاجیکل سروے نے جس نے پہلے ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 8.9بتائی تھی، اس میں تبدیلی کی ہے اور کہا کہ زلزلے کی شدت 9 تھی جو گزشتہ چالیس برس کے دوران دنیا بھر میں کہیں بھی آنے والا شدید ترین زلزلہ ہے۔ اس سمندری زلزلے کے اثرات براعظم افریقہ میں محسوس کیے گئے ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق صومالیہ میں نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں ۔ پاکستان کے ساحلی علاقے بحرہند کے کنارے پر ہونے کے باوجود اس کی تباہی سے بچ گئے ہیں۔ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ امدادی کاموں میں بھرپور مدد کرے گا۔ اس سلسلے میں یورپی یونین نے متاثرین کی امداد کے لیے فوری طور پر تیس لاکھ یورو فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اور دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات کی بھرمار شروع ہو گئی ہے۔ پوپ جان پال دوئم نے کہا ہے کہ وہ اس شدید سانحہ کی زد میں آنے والے افراد کے لیے دعا گو ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||