BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پانچ ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہے‘
جنوب مشرقی ایشیا میں سونامی کی وجہ سے کاروبار بہت متاثر ہو گا
سمندری طوفان سے تباہی کی لاگت کا اندازہ ابھی لگایا جائے گا
عالمی بینک نے کہا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں اتوار کو سمندری طوفان کے باعث جو نقصان ہوا ہے اسے پورا کرنے کے لیے پانچ ارب ڈالر کی امداد کی ضرورت ہوگی۔

اس وقت متاثرہ خطے کی حکومتیں، وہاں کام کرنے والی امدادی ایجنسیاں، انشورنس کمپنیاں اور سفری سہولتیں فراہم کرنے والے ادارے یہ جاننے کی کوشش میں ہیں کہ سونامی کی وجہ سے جو تباہی پھیلی ہے اس کی لاگت کتنی ہو سکتی ہے۔

زلزلے کے بعد طوفانی لہروں سے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کا بڑا حصہ متاثر ہوا ہے لیکن سب سے زیادہ تباہی سری لنکا، بھارت، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ میں ہوئی ہے جہاں خدشہ ہے کہ 23000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

عالمی بینک کے ترجمان ڈیمیئن مِل ورٹن نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ انہیں توقع ہے کہ متاثرہ ممالک کے لیے ایک امدادی پیکج تیار کیا جائے گا جس میں قرض میں سہولت دی جائے گی۔

عالمی بینک کے مطابق 1998 میں وسطی امریکہ میں مِچ نامی طوفان سے پیدا ہونے والی تباہی کی لاگت دس ارب ڈالر تھی۔ اس طوفان میں دس ہزار افراد موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔

حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ
 یہ سانحہ شاید حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی آفت بن جائے کیونکہ متاثرہ علاقے وہ ہیں جہاں نادار و کمزور لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد رہتی ہے۔ کئی لوگوں کا روزگار اور مستقبل تو چند سیکنڈ ہی میں برباد ہوگیا ہے
اقوامِ متحدہ کے ترجمان

جنوبی ایشیا کے ان ممالک میں جو اتوار کے سمندری طوفان کا نشانہ بنے ہیں، سیاحت معیشت کا بہت اہم حصہ ہے۔ اس شعبے میں جنوب مشرقی ایشیا کے خطے میں ایک کروڑ نوے لاکھ افراد وابستہ ہیں۔ جزیرۂ مالدیپ میں تمام ملازمتوں کا دو تہائی حصہ ٹورازم کے شعبے میں ہے۔

سونامی سے متاثر ہونے والے ممالک کو بین الاقوامی ادارے مدد کی یقین دہانی کرا رہے ہیں لیکن ان میں سے اکثر کا کہنا ہے کہ ابھی تو نقصان کی صحیح لاگت کا بھی علم نہیں ہے۔

آئی ایم ایف نے بھی کہا ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں کی حکومتوں کی مدد کے لیے فوری اقدامات کرے گا۔ تاہم متاثرہ علاقوں میں صرف بنگلہ دیش اور سری لنکا ہی اس ادارے سے امداد لیتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں ہنگامی حالت میں مدد فراہم کرنے والے شعبے کے رابطہ کار جان ایگلینڈ کا کہنا ہے کہ ’اتوار کو ہونے والا سانحہ شاید حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی آفت بن جائے کیونکہ متاثرہ علاقے وہ ہیں جہاں نادار و کمزور لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد رہتی ہے۔ کئی لوگوں کا روزگار اور مستقبل تو چند سیکنڈ ہی میں برباد ہوگیا ہے۔‘

انشورنس کی کمپنیاں بھی نقصان کا اندازہ لگا رہی ہیں لیکن ان میں سے کئی کمپنیوں کا یہ خیال ہے کہ اتوار کو جنوبی ایشیا میں جو طوفان آیا اس کی لاگت اس سال کے اوائل میں امریکہ میں آنے والے طوفانوں کے انشورنس کے بِلز سے کم ہوگی۔ ان طوفانوں پر انشورنس کمپنیوں کے ستائیس ارب ڈالر خرچ ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد