BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ، طوفان، تیئس ہزار ہلاک
سری لنکا میں تباہی
سری لنکا کے شہر گالے میں ایک خاتون اپنے بچھڑے ہوئے بیٹے اور باپ کے لیے رو رہی ہے
انڈونیشیا کے ساحل کے قریب سمندر کی تہہ میں آنے والے زلزلے کے باعث پیدا ہونے والی لہروں سے اب تک تیئس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ جبکہ ہزاوں ابھی تک لا پتہ ہیں۔

زلزلے سے متاثر ہونے والے ممالک میں انڈونیشیا، سری لنکا، جنوبی بھارت، ملیشیا، مالدیپ، برما، تھائی لینڈ، بنگلہ دیش اور افریقہ کے ممالک صومالیہ اور کینیا شامل ہیں۔

چالیس سالوں میں سب سے زیادہ شدید زلزلے سے سری لنکا میں گیارہ ہزار کے قریب لوگوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سری لنکا کی وزیر اعظم چندریکا کمارا تنگا نے کہا کہ ان کے ملک کی تاریخ میں کھبی بھی اتنی تباہی نہیں ہوئی ہے۔

انڈونیشیا میں سمندری زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ساڑھے چار ہزار کے قریب بتائی گئی ہے۔ اسی طرح بھارت میں بھی مرنے والوں کی تعداد تقریباً چھ ہزار سے بتائی جاتی ہے جس میں اینڈمان اینڈ نکوبار میں ہلاک ہونے والے تقریباً تین ہزار افراد بھی شامل ہیں۔ خدشہ ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھے گی۔

مالدیپ کے کئی جزیرے جو سطح سمندر سے چند فٹ کی بلندی پر تھے، اس سمندری طغیانی سے تباہ ہو گئے ہیں۔

امریکی جیولاجیکل سروے نے جس نے پہلے ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 8.9بتائی تھی، اس میں تبدیلی کی ہے اور کہا کہ زلزلے کی شدت 9 تھی جو گزشتہ چالیس برس کے دوران دنیا بھر میں کہیں بھی آنے والا شدید ترین زلزلہ ہے۔

اس سمندری زلزلے کے اثرات براعظم افریقہ میں محسوس کیے گئے ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق صومالیہ میں نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں ۔

زلزلے سے ہونے والی ہلاکتیں
سری لنکا۔۔۔ 11,000
انڈونیشیا۔۔۔ 4500
بھارت۔۔۔ 3500
تھائی لینڈ۔۔۔ 839
ملیشیا۔۔۔44
مالدیپ۔۔۔ 32
برما ۔۔۔ 30
بنگلہ دیش۔۔۔ 2

پاکستان کے ساحلی علاقے بحرہند کے کنارے پر ہونے کے باوجود اس کی تباہی سے بچ گئے ہیں۔ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ امدادی کاموں میں بھرپور مدد کرے گا۔

تامل ناڈو کا دارالحکومت چنئی سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں ڈھائی ہزار سے زائد ماہی گیروں کی جھونپڑیاں تباہی کی نذر ہوگئیں اور صرف چنئی میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔

اس شدید زلزلے کا مرکز انڈونیشیا کے قریبی جزیرہ سوماٹرا کو بتایا جا رہا ہے۔ تاہم سوماٹرا سے کسی قسم کی تفصیل موصول نہیں ہو پائی ہے کیونکہ بظاہر وہاں مواصلات اور آمد و رفت کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔

انڈونیشیائی حکام کا کہنا ہے کہ صرف صوبائی دارالحکومت بندہ آچہ ہی میں کم از کم چودہ سو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ البتہ حکام کا خیال ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو گی۔

اس کے علاوہ تھائی لینڈ، ملیشیا اور برما سے بھی کافی ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔

بین الاقوامی امدادی ایجنسیاں متاثرین کو جلد از جلد امداد پہنچانے کی اپیل کر رہی ہیں۔

اس سلسلے میں یورپی یونین نے متاثرین کی امداد کے لیے فوری طور پر تیس لاکھ یورو فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اور دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات کی بھرمار شروع ہو گئی ہے۔

پوپ جان پال دوئم نے کہا ہے کہ وہ اس شدید سانحہ کی زد میں آنے والے افراد کے لیے دعا گو ہیں۔

News image
متاثرہ علاقے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد