چترال: بارش، برف باری، 8 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شمالی پہاڑی علاقے چترال میں بارشوں سے کا سلسلہ پیر کے روز دوبارہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں اب تک آٹھ افراد ہلاک جبکہ کھڑی فصلوں اور باغات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ چترال میں گزشتہ دنوں غیرمتوقع بارشوں اور برف باری سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان سے زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مدد کے بغیر امدادی کارروائیاں تیز کرنا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ چترال میں کئی روز سے بجلی منقطع ہے جبکہ پہاڑی تودوں کی وجہ سے اس کے اکثر علاقوں سے زمینی رابطے بھی کٹے ہوئے ہیں۔ چترال کے ناظم شہزادہ محی الدین نے نقصانات کی مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں مال مویشی بھی بارشوں کی نظر ہوگئے جبکہ گندم کی فصل بھی ستر فیصد تباہ ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مقامی آبادی کی مدد سے کچھ علاقوں کے راستے ہلکی ٹریفک کے لئے کھلوانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ عموماً دسمبر میں ہونے والی برف باری کے اکتوبر کے اوائل میں ہونے سے لواری پاس بھی بند ہوگیا تھا جو اب کئی روز کی کوششوں سے کھول دیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت نے بارشوں سے ہلاک ہونے والوں کے لئے کچھ امداد کا اعلان کیا تھا لیکن مقامی لوگوں کے مطابق یہ انتہائی ناکافی ہے۔ ماہرین کے مطابق چترال کو ان بارشوں کے باعث ہونے والے نقصانات پر قابو پانے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||